2اپریل1986
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۳۱
کو گھٹانے کے لیے کہی تھی ۔ مگر یہ ایک ہونے والی بات تھی کہ گھڑی دوبارہ انبیس مل گئی۔ بزرگوں کے بارے میں بہت سے اس قسم کے واقعات جو مشہور ہیں ان کی حقیقت بس یہی ہے۔ ایسے واقعات کسی کی کرامت کی وجہ سے نہیں ہوتے، وہ اسی لیے ہوتے ہیں کہ وہ ہونے والے ہی تھے ۔ چنانچہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اس قسم کی باتیں کبھی صحیح نکلتی ہیں اور کبھی غلط ۔ مگر معتقدین صرف صحیح ہونے والی باتوں کو لیتے ہیں اور اس کو مزید افسانوی بنا کر مشہور کر دیتے ہیں۔ بزرگوں کی کرامت کی حقیقت بس اتنی ہی ہے ، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
2اپریل1986
غالباً 1941ء کی بات ہے۔ اس وقت میں مدرسہ الاصلاح ( سرائے میر ، اعظم گڑھ، یوپی ) میں پڑھتا تھا۔ مدرسہ کے ریڈنگ روم ( (دارالمعلومات) میں جو عربی پرچے آتے تھے ، ان میں قاہرہ کا ایک ماہنامہ تھا ، جس کا نام ”المقتطف‘‘ تھا۔
میرا سالانہ امتحان کا زمانہ تھا۔ میں دارالمعلومات میں حسب معمول گیا۔ وہاں تازہ المقتطف آیا ہوا تھا۔ اس کو دیکھتے ہوئے میں ایک صفحہ پر پہنچا۔ اس صفحہ پر ایک خاص تدبیر درج تھی ، جو قسمت معلوم کرنے سے متعلق تھی۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ آدمی حسب ذیل جملے کو اپنی زبان سے چند بار دہراتا۔ آبرا گا دا بیسن کاتن۔
اس کے بعد وہ ایک خاص عمل کرتا ، جس کے نتیجہ میں رسالہ کے مطبوعہ جوابات میں سے کوئی ایک اس کے سامنے آجاتا تھا۔ میں نے اپنے سالانہ امتحان کے بارے میں مقررہ عمل کیا۔ اس کے بعد جو جواب آیا وہ اس کے الفاظ میں یہ تھا: ستنجح نجاحاً كبيراً ( تم عنقریب ایک بڑی کامیابی حاصل کرو گے)۔
اس کے بعد سالانہ امتحان ہوا۔ میرے درجہ میں غالباً ہیں سے زیادہ طلبہ تھے۔ میں سب کے مقابلہ میں اول نمبر سے پاس ہوا۔
ایک تو ہم پرست آدمی یہ سمجھ لے گا کہ یہ چند نا قابل فہم الفاظ ( آبرا کا دا بیسن کاتن ) کا کرشمہ تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک اتفاقی مطابقت تھی ، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues