Al-Risala · November 2023 · page 32

2اپریل1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۳۲

میرے نانا خدا بخش مرحوم پرانے قسم کے زمیندار تھے۔ میں نے ان کو نہیں دیکھا۔ البتہ والدہ کے ذریعے ان کے بعض قصے سنے ہیں۔

نانا کا ایک قصہ جو والدہ نے بتایا تھا وہ یہ تھا کہ ایک مرتبہ نانا اور ایک شخص کے درمیان جائیداد کا مقدمہ تھا۔ مقدمہ چل رہا تھا۔ یہاں تک کہ وہ تاریخ آ گئی جس دن نانا کا خصوصی بیان عدالت میں ہونا تھا۔ اس روز نانا کی حاضری عدالت میں ضروری تھی۔ فریق ثانی نے سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت عین اسی دن صبح سویرے ان کے گھر میں آگ لگا دی، تاکہ وہ گھر کی آگ بجھانے میں مصروف ہو جائیں اور عدالت نہ پہنچ سکیں، جو ان کی بستی سے دور ضلع کے صدر مقام (اعظم گڑھ) میں واقع تھی۔ نانا صبح کو اٹھے تو گھر میں آگ لگی ہوئی تھی۔ انہوں نے فوراً معاملہ کو سمجھ لیا۔ انہوں نے فریق ثانی کا نام لے کر کہا کہ یہ یقیناً اسی شخص کا کام ہے۔ اس نے یہ آگ اس لیے لگائی ہے کہ میں اس کو بجھانے میں لگ جاؤں اور عدالت میں نہ پہنچ سکوں اور میرا مقدمہ خراب ہو جائے۔ مگر میں اس کے باوجود عدالت میں جاؤں گا۔ چنانچہ وہ اس حال میں بستی سے روانہ ہوئے کہ ان کے پیچھے ان کا گھر جل رہا تھا اور وہ ریلوے اسٹیشن کی طرف جا رہے تھے۔

میرا حال بھی آج کل کچھ ایسا ہی ہے۔ شیطان نے کچھ لوگوں کو ورغلا کر میرے خلاف ایسی کارروائیاں کرائی ہیں، جس نے میرے ذہن کو آخری حد تک ڈسٹرَب کر دیا ہے، تاکہ میں خدا کے دین کا جو کام کر رہا ہوں وہ نہ کر سکوں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ میرا معاملہ بھی خدا بخش نانا کا معاملہ ثابت ہوگا۔ اللہ تعالی مجھے ہمت دے گا کہ میں اپنے گھر کو جلتا ہوا چھوڑ کر دین کی طرف بڑھوں اور خدا کے پیغام کی پیغام رسانی کا کام جاری رکھوں۔ ''تذکیر القرآن‘‘ کی تحریر اب آخری مرحلے میں ہے۔ اسی طرح، ان شاء اللہ، سیرت کی کتاب بھی مکمل ہو کر رہے گی۔

آج کے ہندوستان ٹائمس (4 اپریل 1986) میں ایک ہند و کا مفصل مضمون اخبار کے صفحہ 9 پر شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues

Printed page