Al-Risala · November 2023 · page 33

5 اپریل 1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۳۳

(ہندوستانی مسلمان چورا ہے پر )۔ اس مضمون میں دکھایا گیا ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوںنے 1947ءسے پہلے اپنی علیحدہ قومیت قائم کرنے میں اپنے مسائل کا حل دریافت کیا تھا۔ مگر پاکستان کے قیام کے باوجود ان کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ تاہم ابھی تک اپنے سابقہ خول میں پڑے ہوئے ہیں۔

مضمون نگار نے نہایت ہمدردانہ طور پر مسلمانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایک اور قسم کے علیحدہ تشخص (separate identity) میں اپنے مستقبل کو تلاش کریں۔ اور وہ ہے تخلیقیت (creativity)۔ مسلمان اس ملک میں ایک تخلیقی اقلیت کا کردار ادا کریں۔ اس نے مزید کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ بہت سی تخلیقی اقلیتیں کسی ملک اور قوم کو نئی زندگی دینے کا واقعہ ثابت ہوئی ہیں۔ مضمون نگار نے کہا کہ میں اسلام کی اعلیٰ تعلیمات اور اس کے فلسفہ مساوات سے متاثر ہوں۔ اسلام کی تعلیمات میں اتنی جان ہے کہ مسلمان اس کے بل پر تخلیقی اقلیت بن کر اس ملک میں ابھر سکتے ہیں۔

یہ بلاشبہ ایک نہایت درست بات ہے۔ دوسرے بہت سے ہند و بھی اس قسم کی بات کرتے رہے ہیں۔ مگر مسلمان اب تک اس طرزِ فکر کو اپنا نہ سکے۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے جھوٹے قومی مسائل میں اتنا زیادہ الجھے ہوئے ہیں کہ وہ اسلام کی تعلیمات کے تخلیقی امکانات کو نہ محسوس کر پاتے اور نہ ان کے اندر یہ جذ بہ ابھرتا ہے کہ وہ ان امکانات کو استعمال کر کے آگے بڑھیں۔ مذکورہ مضمون نگار مسٹر گھوش ہیں۔

5 اپریل 1986

آج دکتور عبد المحسن التونکی (جامعۃ الامام، ریاض) اور دوسرے کئی سعودی اہل علم کا وفد ہمارے مرکز میں آیا۔ مرکز کو دیکھ کر وہ بار بار جمیل جمیل“ کہتے رہے۔ مرکز کی خوبصورت عمارت، اس کی صفائی اور ترتیب ہر چیز ان کو دوسرے اسلامی اداروں کے مقابلہ میں نمایاں طور پر بہتر نظر آئی۔ یہاں کی چھپی ہوئی کتابیں اور الرسالہ کو دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues

Printed page