Al-Risala · November 2023 · page 34

5 اپریل 1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۳۴

ڈاکٹر ترکی نے تعجب خیز لہجہ میں پوچھا کہ اس کام میں آپ کی مدد کون کرتا ہے۔ میں نے سنجیدگی سے جواب دیا : " اَلَّذِي عِنْدَهُ خَزَائِنُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ “ (وہی ذات جس کے پاس آسمان و زمین کے خزانے ہیں )۔

وہ مسکرا کر چپ ہو گئے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ ہمارے مرکز سے اس وقت جو کام ہو رہا ہے، وہ ساری مسلم دنیا میں کسی بھی ادارہ سے نہیں ہو رہا ہے۔ اس لیے لوگ تعجب کے ساتھ پوچھتے ہیں کہ کس کے تعاون سے یہ کام ہو رہا ہے۔ میں پوری سنجیدگی کے ساتھ یہ سمجھتا ہوں کہ یہ کام براہ راست خدا کی طرف سے ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر ترکی کی قیادت میں جو سعودی وفد آیا ہے، اس کا دوسرے اسلامی ادارے زبردست استقبال کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے ایک اسلامی ادارہ کے ذمہ داران کے ساتھ ہمارے یہاں بھی آئے تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ ان سے بات کرتے ہوئے بار بار اس قسم کے جملے بولتے ہیں: اكرمكم الله، الله يبارك فيكم مگر مجھے اس قسم کی بات کرنا بالکل نہیں آتا۔ اس کے باوجود دوسروں سے کہیں زیادہ اعلیٰ معیار پر ہمارا کام ہو رہا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد ہے۔ ورنہ میرے اندر مطلق کوئی صلاحیت نہیں۔ 6 اپریل 1986 آج کے ٹائمس آف انڈیا ( 6 اپریل 1986) صفحہ 8 پر ایک خبر کی سرخی یہ ہے: Manusmruti, Shariat Reactionary (منوسمرتی اور شریعت دونوں رجعت پسند) ۔ یہ مسٹر ایس ایم جوشی کے ایک انٹرویو کا خلاصہ ہے۔ وہ 82 سالہ فریڈم فائٹر ہیں اور سوشلسٹ ذہن رکھتے ہیں۔ آج کل وہ پونا میں مقیم ہیں۔ انٹرویویر نے ان کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں:

Mr. S. M. Joshi said that the Shariat of the Muslims and the Manusmurti of the Hindus followed by both the communities for centuries were equally and socially reactionary.

‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues

Printed page