Al-Risala · November 2023 · page 35

5 اپریل 1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۳۵

مسٹر جوشی نے کہا کہ مسلمانوں کی شریعت اور ہندوؤں کی منوسمرتی جن کی پیروی دونوں فرقے صدیوں سے کر رہے ہیں، وہ مساوی طور پر اور سماجی طور پر رجعت پسند ہیں۔ اخبار کی رپورٹ میں مسٹر جوشی کا صرف اتنا ہی ریمارک نقل کیا گیا ہے۔ مزید تفصیل درج نہیں۔ شریعت کو منوسمرتی کے ساتھ بریکٹ کرنا بلا شبہ غلط ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ منوسمرتی میں واضح طور پر ایسی تعلیمات ہیں جو انسانی برابری کے تصور کے خلاف ہیں۔ جب کہ اسلام میں یقینی طور پر ایسی کوئی تعلیم نہیں۔ اس کے باوجود مسٹر جوشی نے دونوں کو کیوں بریکٹ کیا۔ اس کی نفسیاتی وجہ غالباً یہ ہے کہ وہ اسلامی شریعت کو منوسمرتی کے ساتھ بریکٹ کر کے اپنے احساس کمتری کو ہلکا کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ان کے اس ریمارک کا مطلب یہ ہے کہ اگر منوسمرتی میں رجعت پسندانہ باتیں ہیں تو اس سے کیا ہوا۔ اس قسم کی رجعت پسندانہ باتیں دوسرے مذاہب میں بھی موجود ہیں۔ 7 اپریل 1986 محمد رضا خاں آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی کے عربک یونٹ میں ٹرانسلیٹر ہیں۔ انہوں نے ندوه سے فراغت کی۔ اس کے بعد عربی لٹریچر میں لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم۔ اے کیا۔ وہ آل انڈیا ریڈیو ہاسٹل (کرزن روڈ) میں ایک سرکاری کوارٹر میں رہتے ہیں۔

اگست 1984ء میں وہ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے اپنے وطن چلے گئے۔ مگر انہوں نے اس کے لیے کوئی چھٹی نہیں لی اور نہ بعد کو کوئی درخواست بھیجی۔ عرصہ کے بعد وہ واپس آئے اور وہ اپنے آفس گئے تو دوبارہ انہیں کام نہیں ملا۔ اور سکیورٹی آفیسر نے ان کا آئیڈینٹی کارڈ بھی لے لیا۔ ان کے متعلق یہ مشہور ہے کہ وہ کسی قدر دماغی اختلال میں مبتلا ہیں۔ چنانچہ آل انڈیا ریڈیو کی طرف سے انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ سرکاری ڈاکٹر سے اپنا چیک اپ کرائیں۔ انہوں نے یہ بھی نہیں کیا۔ اس طرح وہ ڈیڑھ سال سے بے کار پڑے ہوئے تھے اور حسب قاعدہ طرح طرح کے مسائل پیش آ رہے تھے۔ آج مجھے ان کی بیوی کا خط ملا جس میں انہوں نے اپنی اور اپنے بچوں کی پریشانی کا ذکر کیا تھا۔ چنانچہ میں آج صبح آل انڈیا ریڈیو ہاسٹل گیا اور محمد رضا خاں صاحب کو لے کر آل انڈیا ریڈیو پہنچا۔ وہاں ایکسٹرنل سروسز ڈویژن کے ڈائریکٹر مسٹر راماسوامی (C. R. Ramaswamy) سے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues

Printed page