11 اپریل 1986
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۳۸
ڈاکٹر عبدالحلیم عویس ریاض کی جامعۃ الامام میں علوم اجتماعی کے پروفیسر ہیں۔ چند دن وہ ہوٹل میں مقیم تھے۔ آج وہ ہمارے یہاں آئے ہیں۔ دو دن ہمارے مرکز میں رہ کر اتوار کو واپس ریاض جائیں گے۔ (2011ء میں ڈاکٹر عبدالحلیم عویس کا انتقال ہو چکا ہے)
وہ نہایت ذہین اور خوش طبع آدمی ہیں۔ میں نے کمرہ کی الماری کھول کر کہا کہ یہاں ہینگر ہے ۔ اس میں آپ اپنے کپڑے لٹکا سکتے ہیں۔ انہوں نے ہینگر (شماعہ) پر ایک عربی مثل سنائی: نحن نعلق على شماعة الاستعمار كل اخطائنا یعنی ہم اپنی تمام غلطیوں کو استعمار (colonialism) کے ہینگر پر لٹکاتے ہیں۔ اس عربی مثل میں جو بات کہی گئی ہے، وہ بلا شبہ صد فیصد درست ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہمارے مسائل زیادہ تراسی غلط ذہن کا نتیجہ ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دیتے ہیں۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ جس نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو نا کام بنا دیا ہے۔ یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں لازماً یہ ہونا ہے کہ ایک قوم دوسری قوم کو دھکیل کر آگے بڑھ جائے۔ ایک قوم دوسری قوم کی شکست پر اپنی فتح کا قلعہ تعمیر کرے۔ یہی تاریخ میں ہمیشہ ہوا ہے اور آئندہ بھی ہمیشہ یہی ہوتا رہے گا۔ ہم دنیا کے اس نظام کو بدل نہیں سکتے۔ ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ اس نظام کو بطور واقعہ مان کر اپنی منصوبہ بندی کریں۔
11 اپریل 1986
چارلس شوبھراج (پیدائش 1944ء) ایک بین الاقوامی مجرم ہے۔ وہ دہلی کے تہاڑ جیل سے مارچ 1986ء میں فرار ہو گیا۔ اس کی منصوبہ بندی نہایت مکمل تھی۔ مگر 7 اپریل 1986ء کو بمبئی پولیس نے اس کو پکڑ لیا۔
چارلس شوبھراج اپنے ساتھیوں کا بہت وفادار تھا۔ وہ تہاڑ جیل سے بھاگا تو اپنے ساتھیوں کو بھی ساتھ لے گیا۔ ان میں سے ایک ساتھی اتفاق سے پکڑا گیا۔ اسی ساتھی کے ذریعہ ابتدائی سراغ ملا
‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues