11 اپریل 1986
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۳۹
جو بالآخر شوبھراج کی گرفتاری تک پہنچا۔ رپورٹ کا ایک حصہ یہ ہے: پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ (شوبھراج کا ساتھی) تیاگی اس وقت کھل گیا جب انہوں نے اس سے کہا کہ انہوں نے شوبھراج کو پکڑ لیا ہے۔ یہ سن کر وہ پھٹ پڑا اور اس نے کہا کہ میں نے اس بیوقوف سے کہا تھا کہ وہ بمبئی نہ آئے۔
چارلس شوبھراج کے ساتھی کو بلف (bluff) دے کر اس طرح پولیس نے معلوم کر لیا کہ شوبھراج بمبئی یا اس کے آس پاس ہے۔ اس کے بعد اس علاقے میں کھوج شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ وہ ایک ہوٹل میں پکڑ لیا گیا۔
آدمی کتنا ہی زیادہ تیاری کرے، کوئی نہ کوئی گوشہ ایسا رہ ہی جاتا ہے جہاں اس کی تیاری نامکمل ہو۔ اور اسی گوشہ سے طوفان اس کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں وہی محفوظ ہے جس کو خدا محفوظ رکھے۔ انسان اپنے آپ کو بچانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ 12 اپریل 1986 آج ڈاکٹر عبدالرشید صاحب (حیدرآباد) اور ان کے ایک ساتھی ملنے کے لیے آئے۔ ڈاکٹر صاحب ریاض (سعودی عرب) میں ڈاکٹر تھے۔ وہ وہاں سے چھوڑ کر ہندوستان آئے ہیں اور حیدر آباد میں اسلامی مرکز کے مشن کے ساتھ جڑ کر کام کرنا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالرشید صاحب کا ذہن خالص آخرت پسندانہ ہے۔ وہ اس راز کو جان گئے ہیں کہ اصل کام افراد کے اندر اللہ سے تعلق اور آخرت کا فکر پیدا کرنا ہے۔ اگر یہ چیز آجائے تو بقیہ چیزیں اپنے آپ آجائیں گی۔
ایک بار ایک عرب صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی سب سے اونچی کتاب "مذہب اور جدید چیلنج" ہے۔ بقیہ کتابیں اس کے نیچے ہیں۔ جو لوگ اس طرح کی باتیں کہتے ہیں وہ ہمارے مشن کو صرف 50 فیصد سمجھ سکے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالرشید صاحب خدا کے فضل سے ان میں نہیں ہیں۔ انہوں نے اس مشن کو پوری طرح سمجھا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues