11 اپریل 1986
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۴۰
لوگ مظاہر کو دیکھتے ہیں اور ان پر محنت کرنے کو کام سمجھ لیتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے درخت کی شاخ سوکھی ہوئی نظر آئے تو آدمی اسی شاخ پر پانی ڈالنا شروع کردے۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ شاخوں کو ہرا بھرا کرنے کا راز یہ ہے کہ درخت کی جڑ میں پانی دیا جائے۔ مگر انسانی زندگی کے معاملہ میں لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ شاخوں پر پانی ڈالو اور درخت ہرا بھرا ہو جائے گا۔ 13 اپریل 1986 ایک عرب عالم جو جامعۃ الامام (ریاض) میں پروفیسر ہیں۔ اسلامی مرکز میں آئے۔ وہ ہمارے مشن سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے آپ کے اس نقطہ نظر سے اتفاق ہے کہ اسلام کو سیاسی ٹکراؤ اور قومی مطالبات کا اشو نہ بنایا جائے۔ بلکہ اس کو ایک دعوتی قوت کی حیثیت سے اٹھایا جائے۔ اور اس کو عصری اسلوب میں مدلل کر کے لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے۔
موصوف کی پرزور تجویز ہے کہ اسلامی مرکز سے الرسالہ کا عربی ایڈیشن جاری کیا جائے ، تا کہ عالم عربی اسلامی مرکز کے افکار سے واقف ہو سکے۔
دوران گفتگو میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں ہر آدمی "دعوت" کا لفظ بولتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی کرتا ہے کہ وہ دوسری قوموں سے مسلمانوں کے قومی مطالبات اور مادی نزاعات کی بھی وکالت کر رہا ہے۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسری کی ضد ہیں۔
مسلمانوں کو داعی گروہ کی حیثیت سے اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے قومی جھگڑوں کو یک طرفہ طور پر ختم کریں، تاکہ ان کے بعد دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم ہو۔ دوسری قوموں کو مادی حریف اور سیاسی رقیب بنانے کے بعد ان کے اوپر دعوت کا کام نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی دعوت مسلمانوں کے اپنے ذہن میں وجود میں آسکتی ہے، وہ خارجی دنیا میں وجود میں نہیں آسکتی۔ پاکستان میں سیاسی پابندیوں کے زمانہ میں مس بے نظیر بھٹو لندن چلی گئی تھی۔ اب پاکستان میں
‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues