Al-Risala · November 2023 · page 41

11 اپریل 1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۴۱

سیاسی پارٹیوں کو آزادی دی گئی ہے تو بے نظیر بھٹو دوبارہ پاکستان آگئیں۔ اپریل 1986 میں بے نظیر بھٹو لاہور کے ہوائی اڈہ پر اتری تو لاکھوں انسان استقبال کے لیے موجود تھے۔ ہندوستان کے چند آدمی جو ان دنوں لاہور میں تھے، انہوں نے واپس آ کر مجھے دہلی میں بتایا کہ ہم بے نظیر بھٹو کے اجتماع میں تو شریک نہیں ہوئے، تاہم سڑکوں پر بے نظیر بھٹو کے حامیوں کا اتنا ہجوم تھا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ لاہور عملاً پیپلز پارٹی کے قبضے میں ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (14 اپریل 1986ء) کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: The politics of processions and public meetings had generated more heat than light. جلسوں اور جلوسوں کی سیاست نے گرمی زیادہ پیدا کی ہے اور روشنی کم۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہ بے نظیر بھٹو (وفات 2007) کی سیاست جنرل ضیاء الحق کے نزدیک counter productive ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا خود جنرل ضیاء الحق (وفات (1988) کی سیاست بھی کاؤنٹر پروڈکٹیو نہیں جنرل ضیاء الحق صاحب نے اسلام کے نام پر جولائی 1977ء میں پاکستان کی حکومت پر قبضہ کیا۔ وہ ہر قسم کے اقتدار اور وسائل پر پوری طرح قابض ہو کر پاکستان میں اسلامائزیشن کی تحریک چلا رہے ہیں۔ وہ مسلسل یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ ان کا اسلامائزیشن کا عمل پوری طرح کامیاب ہے۔ وہ اپنے آپ کو اسلام کا نمائندہ بتاتے ہیں اور بھٹو پارٹی کو غیر اسلام کا نمائندہ۔ اب سوال یہ ہے کہ جب جنرل ضیاء الحق صاحب نے تمام پاکستانیوں کو اسلامی بنا رکھا ہے تو یہ کیسے ممکن ہوا کہ یہ پاکستانی لوگ غیر اسلامی لیڈر شپ کے پیچھے دوڑ پڑیں ۔ کیا جنرل ضیاء الحق صاحب کی سیاست بھی عین اسی طرح کاؤنٹر پروڈکٹیو ہے جس کا الزام وہ بھٹو پارٹی کو دے رہے ہیں۔ 15 اپریل 1986 جناب مہتاب سنگھ صاحب ملنے کے لیے آئے۔ وہ سائنس وٹکنالوجی میں سینئر آفیسر رہے ہیں اور بیرونی ملکوں کا بھی دورہ کیا ہے۔

میں نے اردو الرسالہ انہیں دکھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ اردو پڑھتے ہیں۔ انہوں نے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues

Printed page