Al-Risala · November 2023 · page 42

11 اپریل 1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۴۲

کہا کہ ہاں، اردو تو ہماری اصل زبان ہے۔ ہم ان لوگوں میں سے ہیں جو تقسیم کے بعد پاکستان سے آئے۔ وہاں ہم نے اردو اور فارسی پڑھی۔ ہمارے ابتدائی استاد ایک مولوی صاحب تھے، جن سے، ہم مسجد میں جاکر پڑھا کرتے تھے۔

اس طرح کی اور کئی باتیں انہوں نے بتائیں۔ میں نے سوچا کہ وہ مسلم قائدین بھی کتنے نادان تھے، جنہوں نے جھوٹے مذہبی جھگڑے کھڑے کرکے ملک کو تقسیم کرایا اور ایک پوری قوم جو اردو زبان اور مسلم تہذیب کو اپناتے ہوئے تھی اس کو زبردستی دھکیل کر اپنے سے دور کر دیا۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانے میں جو سب سے بڑی چیز کھوئی ہے وہ دعوتی ذہن ہے اور اس قسم کی تمام نادانیاں اسی کا نتیجہ ہیں۔

مہتاب سنگھ صاحب نے دوران گفتگو کہا کہ میں نے انگریزی کی ایک ڈکشنری میں لفظ silly دیکھا تو اس کا ایک مطلب مذہبی آدمی لکھا ہوا تھا۔ میں نے اسی وقت ویبسٹر کی بڑی ڈکشنری نکالی اور اس میں سلی کا لفظ دیکھا۔ ڈکشنری میں اس لفظ کے چھ معنی لکھے ہوئے تھے، مگر اس میں مذہبی شخص شامل نہ تھا۔

میں نے جناب سنگھ سے کہا کہ کسی لفظ کا ایک لغوی مفہوم ہوتا ہے اور ایک مجازی مفہوم۔ لفظ سلی کا لغوی مفہوم تو بے وقوف اور سادہ لوح ہے۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مذہب میں زیادہ پر جوش طور پر وہی لوگ جاتے ہیں جو سیدھے سادے کم سمجھ ہیں۔ زیادہ ہوشیار لوگ مذہب کی طرف کم رجوع کرتے ہیں۔ اس عملی صورت حال کی وجہ سے سلی کا لفظ شاید مجازی طور پر مذہبی لوگوں کے لیے بھی کسی علاقہ میں بولا جانے لگا ہو۔

ہندوستان میں جولوگ موجودہ زمانہ میں مذہبی سیاست چلاتے رہے ہیں ان پر تو یہ یقیناً پوری طرح صادق آتا ہے۔

اس دنیا میں فیض بقدر استعداد کا اصول ہے۔ یعنی جتنا بونا اتناہی پانا، نہ اس سے کم، نہ اس سے زیادہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues

Printed page