آفاقی معرفت
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۹
آفاقی معرفت
قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ۗ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (41:53) ۔ یعنی مستقبل میں ہم ان کو دکھائیں گے اپنی نشانیاں، آفاق میں اور انفس میں ۔ یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے کہ یہ حق ہے۔ اور کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز کا گواہ ہے۔ قرآن کی اس آیت میں مستقبل میں پیش آنے والے ایک واقعے کی خبر دی گئی ہے۔ یہ وہی چیز ہے، جس کو تاریخ میں ایج آف ریزن (age of reason) کہا جاتا ہے۔ یعنی قرآن سے پہلے جو دور تھا، وہ ایسا دور تھا، جس میں سننے اور ماننے کی بنیاد پر ایمان کو قبول کیا جاتا تھا۔ لیکن قرآن کے بعد وہ دور آنے والا تھا، جو عقلی طرزِ فکر کا دور ہوگا۔ اس دور میں ریزن کی بنیاد پر ایمان کو مانا جائے گا۔ کائنات میں غور و فکر کرنا اس حقیقت کو معلوم کرنے کے لیے کافی ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے۔ کائنات (universe) خالق کے لیے اپنا ثبوت آپ ہے۔ کائنات میں فطرت کے جن حقائق کو بیان کیا گیا تھا، وہ بعد کے مطالعے کے ذریعے عین ثابت شدہ حقیقت بن گئی ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں مستقبل کے ایک واقعے کی پیشگی خبر دی گئی ہے۔ جب یہ واقعہ ظاہر ہوگا تو قرآن کا دعوی آخری طور پر ثابت ہو جائے گا کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے، اور انسان پر لازم ہے کہ وہ اس خالق کو مان کر دنیا میں اپنی زندگی گزارے۔ اس آیت کے نزول کے وقت یہ واقعہ پیش نہیں آیا تھا، وہ مستقبل میں ظاہر ہونے والا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ مستقبل کا یہ واقعہ کب اور کہاں ظاہر ہوگا۔ ہماری تفسیروں میں اس کا جواب نہیں ملتا۔ قرآن کے قاری پر لازم ہے کہ وہ مستقبل کے اس واقعے کو دریافت کرے، اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ غور کیا جائے تو مغرب میں پیدا ہونے والی طبیعیاتی سائنس اس سوال کا جواب ہے۔ آئن اسٹائن نے کہا ہے کہ گلیلیو گلیلی طبیعیاتی سائنس کا فادر (father of modern science) ہے، یعنی اس
‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues