آفاقی معرفت
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۱۰
سائنس کا آغاز کرنے والا۔ سائنس کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ آغاز گلیلیو گلیلی (1642-1564ء) کی دریافت سے ہوا۔ اس سے پہلے بطور واقعہ (potentially) سائنس موجود تھی۔ لیکن اب تک وہ انسان کے علم میں نہیں آئی تھی۔ گلیلیو کے زمانے میں سائنس کا علم ڈیولپ ہوا۔ اس کے بعد پہلی بار دوربین مطالعہ کے ذریعے انسان نے شمسی نظام (solar system) کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ دوربین مطالعے کے ذریعے پہلی بار انسان نے یہ جانا کہ سورج سولر سسٹم کا مرکز ہے۔ زمین سولر سسٹم کا مرکز نہیں ہے، جیسا کہ پہلے سمجھا جاتا تھا۔
حدیث میں کہا گیا ہے کہ اللہ فاجر (سیکولر) انسان کے ذریعے دین کی مدد کرے گا (مسند الشہاب القضاعی، حدیث نمبر 1096)۔ میرے اندازے کے مطابق، جدید دور میں یہ سیکولر انسان غالباً گلیلیو گلیلی ہے۔ گلیلیو گلیلی نے دوربین کے ذریعے نظام شمسی کا مطالعہ کیا تو یہ حقیقت دریافت ہوئی کہ شمسی نظام سورج مرکزی ہے، نہ کہ زمین مرکزی۔ اس دریافت کے بعد فلکیاتی علم میں ایک نیا انقلابی دور آیا۔ غالباً یہ اٹلی کا سائنس داں گلیلیو گلیلی تھا، جس کے بعد فلکیاتی مشاہدے کا دروازہ کھلا۔ اسی طرح سے برٹش سائنس داں نیوٹن (1727-1643ء) کے ذریعے سائنسی مطالعے کا سفر مزید آگے بڑھا۔ اس قسم کے تمام سائنس داں بظاہر قرآن کی مذکورہ آیت کی تائید کرتے ہیں۔ کائنات کا یہ طریق مطالعہ جو شروع ہوا، اس کو سائنسی مطالعہ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد ہی وہ دور آیا، جس کو سائنسی دور کہا جاتا ہے۔ اسی مطالعے کے ذریعے اعلیٰ سطح پر آفاق اور انفس کی نشانیوں (دلائل الہی) کا اظہار ہوا، جس کی پیشین گوئی قرآن میں کی گئی تھی (فصلت، 41:53)۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قرآن کے نزول کی ابتدا عیسوی کیلنڈر کے مطابق 609 میں ہوئی۔ تقریباً اسی زمانے میں یورپ میں ایک اور عمل شروع ہوا، جس کا نقطہ انتہا (culmination) یہ تھا کہ انگریزی زبان دنیا کی انٹرنیشنل زبان بن جائے، اور کائنات میں بالقوہ موجود نشانیاں سائنسی تحقیق کے ذریعے سامنے آجائیں۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اس آفاقی معرفت کا ظہور عملاً واقع ہو چکا ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ اس کو دریافت کیا جائے، اور اس کو اسلامی دعوت کے لیے استعمال کیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues