Al-Risala · March 2023 · page 11

عالمی انذار

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۱۱

عالمی انذار

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تا کہ وہ جہان والوں کے لئے آگاہ کرنے والا ہو۔ اس موضوع پر قرآن کی ایک اور آیت یہ ہے: وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَنْ بَلَغَ (6:19)۔ یعنی اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے کہ میں بھی اس کے ذریعہ سے تم کو آگاہ کروں، اور وہ بھی جن کو یہ پہنچے۔ قرآن کی ان دونوں آیتوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اس لیے اترا تھا کہ وہ اہل عالم کے لیے منذر بنے، یعنی آگاہ کرنے والا۔ رسول اور اصحابِ رسول نے قرآن کے زمانۂ نزول میں براہِ راست طور پر قرآن کو اپنے معاصرین تک پہنچایا۔ اس کے بعد دوسرا مطلوب یہ تھا کہ رسول اور اصحاب رسول کے بعد کے اہل ایمان آنے والی نسلوں تک قرآن کی تعلیمات کو پہنچائیں۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں پرنٹنگ پریس اور اشاعت کے عالمی ذرائع وجود میں نہیں آئے تھے۔ اس لیے انھوں نے اپنے معاصرین تک قرآن کو اس طرح پہنچایا کہ قرآن کو حافظے (memory) میں محفوظ کرلیا، اور اہل عرب تک وہ اس کو پڑھ کر پہنچاتے رہے۔ گویا کہ وہ اپنے زمانے کے عربی داں لوگوں کے لیے قرآن کے مقری (reciter) بنے رہے۔ مگر بعد کے زمانے میں انذار کا یہ پر اسس عملاً رک گیا۔

اب سوال یہ ہے کہ بعد کے زمانے کے حالات کا علم اللہ رب العالمین کو بلا شبہ تھا۔ پھر اللہ رب العالمین نے اس کے لیے کیا انتظام کیا۔ اس سوال کا جواب احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ احادیث رسول کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں پیشین گوئی کے طور پر یہ بتایا گیا تھا کہ بعد کے زمانے میں غیر اہل ایمان میں دین کے مؤیدین (supporters) پیدا ہوں گے۔ یہ پیشین گوئی حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues

Printed page