مذہبی رواداری ، تالیف قلب
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۲۳
شخص اتباع حق کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ فیصلہ ایک ایسی دنیا میں ہوتا ہے جہاں طرح طرح کے مسائل ہیں۔ کبھی کوئی خارجی چیز اس کی خواہش (desire) یا اس کی انا (ego) کو بھڑکاتی ہے اور اس کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی خواہش سے متاثر ہو کر حق کے راستے سے ہٹ جائے۔ اسی طرح کبھی خارجی مشکلات سے اس کے ارادے میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے اور ضرورت ہوتی ہے کہ اس کو دوبارہ ثابت قدمی پر آمادہ کیا جائے۔ ایمانِ کامل کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنے رب سے جو عہد کیا تھا اس کی اس نے عملی تصدیق کر دی۔ وہ ہر حال میں اپنے ایمانی اقرار پر ثابت قدم رہا۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے افضل عمل یہ ہے : اللہ کے لیے محبت کرنا اور اللہ کے لیے ناپسند کرنا (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4599)۔
آدمی کے اندر سب سے زیادہ طاقتور جذبہ محبت اور ناپسندیدگی کا جذبہ ہے۔ آدمی کے تمام اعمال انهيں دونوں جذبات کے زیر اثر واقع ہوتے ہیں۔ یہ جذبات اللہ کے تابع ہوں تو آدمی کی زندگی اسلامی زندگی بنے گی، اور اگر یہ جذبات غیر خدا کے تابع ہوں تو آدمی کی زندگی غیر اسلامی زندگی بن جائے گی۔ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی انسان کا سب کچھ ہو جائے ۔ وہ اپنی محبت، دشمنی اور انا، وغیرہ جیسے جذبات کو مکمل طور پر اللہ کے حکم کے تابع کر دے۔ یہ اللہ کے نزدیک افضل ترین عمل ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلم وہ ہے جس کی زبان سے اور اس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہوں۔ اور مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے خون اور اپنے مال کے معاملہ میں محفوظ ہوں (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2627؛ سنن النسائی، حدیث نمبر 4996)۔ مسند احمد (حدیث نمبر 7086) میں ”مسلم“ کی جگہ ”الناس“ کا لفظ ہے۔ یعنی تمام انسان کی جان و مال محفوظ ہو ۔ مومن و مسلم کون ہے۔ یہ وہ انسان ہے جو اس حقیقت کو دریافت کرے کہ خدا اس کا خالق و مالک ہے اور موت کے بعد آخرت کی دنیا میں وہ اس کے سارے کارنامہ حیات کا حساب لے گا۔ یہ عقیدہ مومن کے اندر آخرت کی پکڑ کا شدید اندیشہ پیدا کر دیتا ہے۔ یہ اندیشہ اس کو مجبور کر دیتا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues