Al-Risala · March 2023 · page 24

مذہبی رواداری ، تالیف قلب

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۲۴

کہ وہ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں پوری طرح محتاط رہے۔ وہ اپنی زبان سے لوگوں کو تکلیف نہ پہنچائے۔ انسانی حقوق کے معاملہ میں وہ کسی کو شکایت کا موقع نہ دے۔ اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے بچانے کا جذبہ اس کو انسانوں کے معاملہ میں آخری حد تک بے ضرر بنا دیتا ہے۔ یہ روایت الپہقی نے فضالہ بن عبید کے واسطے سے نقل کیا ہے۔ اس میں یہ اضافہ ہے: مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کے لیے اپنے نفس سے جہاد کرے اور مہاجر وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں کو چھوڑ دے (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 10611)۔

جہاد کا اصل محرک اللہ کی پکڑ کا اندیشہ ہے۔ اس لیے حقیقی مجاہد وہ ہے جو سب سے پہلے خود اپنی ذات کے ساتھ جہاد کرے، وہ اپنے نفس کو زیر کر کے اپنی زندگی کو خدا کے تابع بنادے۔ اسی طرح ہجرت (ترک) کا محرک بھی خدا کا خوف ہے۔ اصلی مہاجر وہ ہے جس کو خدا کی پکڑ کا اندیشہ ہر گناہ کو چھوڑنے پر مجبور کردے۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ہمیں خطاب کرتے تو بہت کم ایسا ہوتا کہ وہ یہ نہ فرمائیں: اس کا ایمان نہیں جس کے اندر امانت نہ ہو۔ اور اس کا دین دین نہیں جس کے اندر عہد کی پابندی نہ ہو (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 4354؛ مسند احمد، حدیث نمبر 12383)۔

جب ایک آدمی ایمان و اسلام کو اختیار کرے تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر اس کی زندگی میں ایک انقلاب آجاتا ہے۔ وہ مکمل طور پر ایک با اصول انسان بن جاتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے ناممکن ہوتا ہے کہ وہ کوئی ایسا رویہ اختیار کرے جو امانت (trust) کے خلاف ہو۔ عہد کرنے کے بعد عہد کا توڑنا اس کو ایسا لگتا ہے جیسے اس نے خود اپنے آپ کو توڑ ڈالا۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: جو یہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اس پر اللہ نے جہنم

‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues

Printed page