مذہبی رواداری ، تالیف قلب
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۲۵
کی آگ کو حرام کردیا ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 29؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2638)۔ قول اور شہادت یا کہنے اور گواہی دینے میں یہ فرق ہے کہ قول صرف زبان سے ہوتا ہے مگر شہادت وہ ہے جس میں آدمی کا پورا وجود شامل ہو جائے۔ جس کو دل کے پورے اطمینان اور ذہن کی کامل تصدیق کے ساتھ انجام دیا جائے۔ ایسی شہادت آدمی کی پوری شخصیت کا احاطہ کیے ہوئے ہوتی ہے۔ وہ جب کہتا ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ تو یہ اس کے لیے صرف ایک زبانی قول نہیں ہوتا بلکہ اس واقعہ کا اعلان ہوتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی کے بارے میں ایک نیا انقلابی فیصلہ کیا ہے۔ ایک ایسا فیصلہ جس سے اس کی زندگی کا کوئی بھی پہلو اور کوئی بھی شعبہ خالی نہیں۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص پر موت آئے اور وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو وہ جنت میں داخل ہوگا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 26)۔ اس حدیث میں علم کا لفظ آیا ہے۔ کوئی لفظ کبھی اپنے ابتدائی مفہوم میں ہوتا ہے اور کبھی اپنے انتہائی مفہوم میں۔ یہاں علم کا یہ لفظ اپنے انتہائی مفہوم میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اس حقیقت واقعہ کو کامل طور پر جان لے کہ اس کائنات کا خالق اور مالک اور معبود صرف ایک اللہ ہے۔ اور یہ جاننا اتنا بھرپور ہو کہ اسی کے مطابق اس کی زندگی گزرے اور اسی پر اس کی موت آئے تو ایسا انسان خدائی قانون کے مطابق اس کا مستحق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کیا جائے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو چیزیں لازم کرنے والی ہیں۔ ایک شخص نے کہا کہ اے خدا کے رسول، دو لازم کرنے والی چیزیں کیا ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک کرتا تھا تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ اور جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 93)۔
خدا کے ساتھ کسی کو شریک کرنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ اور خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues