مذہبی رواداری ، تالیف قلب
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۳۹
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جنت کی کنجیاں ہیں ۔ یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں (مسند احمد، حدیث نمبر 22102)۔ لا الہ الا اللہ کی گواہی (شہادت) دینا یہ ہے کہ آدمی کا پورا وجود اس حقیقت کا زندہ اعلان بن جائے کہ ایک اللہ کے سوا کوئی نہیں جو عبادت کا حق دار ہو۔ شہادت کا مطلب آدمی کی پوری ہستی کا اس ربانی حقیقت میں ڈھل جانا ہے۔ جو شخص اس کی شہادت کا ثبوت دے اس کے حق میں خدا کا یہ فیصلہ ہے کہ جنت کے تمام دروازے اس کے لیے کھول دیے جائیں۔
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ بہت زیادہ غم گین ہو گئے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض افراد کے اندر وسوسہ پیدا ہو گیا۔ عثمان کہتے ہیں کہ میں ان میں سے ایک تھا۔ پھر جب کہ میں بیٹھا ہوا تھا، عمر میرے سامنے سے گزرے۔ انھوں نے سلام کیا مگر مجھے اس کا احساس نہیں ہوا۔ عمر نے اس کا ذکر ابو بکر سے کیا۔ اس کے بعد وہ دونوں میرے پاس آئے اور دونوں نے مجھ کو سلام کیا۔ ابو بکر نے کہا کہ کیوں ایسا ہوا کہ تم نے اپنے بھائی عمر کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا کہ میں نے تو ایسا نہیں کیا۔ عمر نے کہا کہ ہاں خدا کی قسم تم نے ایسا کیا ہے۔ عثمان کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ خدا کی قسم، مجھے خبر نہیں ہوئی کہ تم گزرے اور تم نے مجھ کو سلام کیا۔ ابو بکر نے کہا کہ عثمان نے سچ کہا۔ (پھر ابو بکر نے عثمان سے پوچھا کہ ) کیا تم کو کسی چیز نے اس سے بے خبر رکھا۔ میں نے کہا: ہاں۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اللہ نے اپنے نبی کو وفات دے دی، اس سے پہلے کہ ہم آپ سے نجات کے بارے میں دریافت کریں۔ ابو بکر نے کہا کہ میں نے اس کے بارے میں آپ سے پوچھا تھا۔ (عثمان نے کہا کہ یہ سن کر) میں ابو بکر کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان، اس بارے میں سوال کرنے کے لیے آپ لائق تھے۔ ابو بکر نے کہا کہ میں نے پوچھا تھا کہ اے اللہ کے رسول، اس معاملہ میں نجات کی کیا صورت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ سے کلمہ توحید کو قبول کرلے ۔ جو میں نے اپنے چچا کے سامنے پیش کیا تھا مگر انھوں نے اس کو قبول
‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues