Al-Risala · March 2023 · page 29

مذہبی رواداری ، تالیف قلب

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۲۹

کرنے سے انکار کر دیا ــــ تو یہی اس کی نجات کا ذریعہ ہوگا (مسند احمد، حدیث نمبر 20)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب ایک مشرکانہ عقیدہ پر تھے۔ اسی سے ان کی پوری عملی زندگی بنی۔ اس کے بعد رسول اللہ نے ان کے سامنے توحید کا عقیدہ پیش کیا۔ یہ سادہ طور پر ایک لفظی مجموعہ کو زبان سے دہرانے کا معاملہ نہ تھا، بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ ابو طالب فکر و عمل کے ایک طریقہ کو چھوڑ کر فکر و عمل کے دوسرے طریقہ کو اختیار کر لیں۔ مگر وہ اپنی زندگی میں اس قسم کی تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ یہی اصول دوسروں کی نجات کے لیے بھی ہے۔ جو آدمی اپنے عقیدہ و عمل کو کلمہ توحید کی بنیاد پر تشکیل دے وہی اللہ کے یہاں نجات پائے گا، اور جو ایسا نہ کر سکے وہ نجات سے محروم رہے گا۔ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ زمین کی سطح پر کوئی خیمہ یا گھر باقی نہیں رہے گا مگر اللہ اس میں اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔ عزت والے کی عزت کے ساتھ اور ذلیل كي ذلت کے ساتھ۔ اللہ یا تو انہیں عزت دے گا اور ان کو کلمہ والوں میں سے بنادے گا۔ یا وہ ان کو ذلیل کرے گا پھر وہ اس کی اطاعت کریں گے۔ میں نے کہا کہ پھر سارا دین اللہ کے لیے ہی ہو جائے گا (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ اس حدیث میں غالباً اُس واقعے کی پیشین گوئی ہے جو صنعتی انقلاب کے بعد ظہور میں آیا۔ اس حدیث کے مطابق ، یہ بات پیشگی طور پر مقدر تھی کہ اسلام کا پیغام ساری دنیا میں ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں پہنچ جائے۔ اس واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے کمیونی کیشن کے وہ جدید ذرائع درکار تھے جو صرف موجودہ زمانے میں صنعتی انقلاب کے بعد ظہور میں آئے ہیں۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ اسلام کی ایسی عمومی اشاعت کی جائے کہ کوئی گھر اس سے بچا ہوا نہ ہو۔ یہ عمل (process) آج تیزی سے جاری ہو چکا ہے۔ جلد ہی وہ وقت آنے والا ہے جب کہ حدیث کی پیشین گوئی لفظی طور پر پوری طرح وقوع میں آجائے۔

اس حدیث میں جس واقعہ کا ذکر ہے اس سے مراد ساری دنیا میں پیغام اسلام کی اشاعت ہے، نہ کہ ساری دنیا کے اوپر اہل اسلام کا سیاسی غلبہ۔ اس حدیث میں کلمۂ اسلام سے مراد قرآن

‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues

Printed page