مذہبی رواداری ، تالیف قلب
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۳۰
ہے۔ یعنی قرآن کو ہر گھر میں اور ہر انسان تک پہنچایا جائے۔ گھر سے مراد صرف رہائش گاہ نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر تعلیم گاہ، ہر لائبریری، ہر ادارہ، ہر ہوٹل، وغیرہ میں اس کو پہنچا دینا۔ اسلام کا اصل نشانہ یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا اپنے رب کے احکام سے باخبر ہو جائے، نہ یہ کہ سارے انسان کے اوپر کسی ایک گروہ کی حکومت قائم ہو جائے۔
وہب بن منبہ سے پوچھا گیا کہ کیا لا الہ الا اللہ جنت کی کنجی نہیں ہے؟ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ مگر ہر کنجی کے دندانے ہوتے ہیں۔ پس اگر تم ایسی کنجی لے کر آئے جس میں دندانے ہیں تو تمھارے لیے وہ کھل جائے گا، ورنہ وہ تمھارے لیے نہیں کھلے گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1237)۔ وہب بن منبہ تابعی (وفات 114ھ) نے کنجی کے ساتھ دندانہ کی شرط لگائی ہے۔ انھوں نے تمثیل کی زبان میں بتایا ہے کہ شہادت کے کلمہ سے مراد صرف اس کی لفظی ادائیگی نہیں ہے بلکہ کلمہ کو اس کے فکری اور عملی تقاضوں کے ساتھ اختیار کرنا ہے۔ ان تقاضوں کے بغیر کلمہ کی مثال ایسی ہی ہے جیسے دندانے کے بغیر کنجی۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جو اپنے اسلام کو درست کرے۔ تو ہر وہ نیکی جس کو وہ کرے گا تو وہ اس کے لیے دس گنا سے لے کر سات سوگنا تک لکھی جائے گی۔ اور ہر وہ برائی جس کو وہ کرے گا تو وہ اس کے لیے اسی کے برابر لکھی جائے گی، یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 42؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 129)۔ ایک شخص جو دل سے مومن ہو اس سے اگر کبھی کوئی برائی سرزد ہوتی ہے تو اس کا محرک صرف ایک ہوتا ہے اور وہ ہے وقتی طور پر نفسانی جذبہ سے مغلوب ہو جانا۔ گویا کہ مومن کی ہر برائی اپنے درجے کے اعتبار سے ایک اتفاقی برائی ہوتی ہے اس لیے اس کے نامهٔ اعمال میں بھی وہ صرف ایک درجہ کی برائی کے طور پر لکھی جاتی ہے۔
مگر مومن کی نیکی مثبت جذبہ کے تحت ہوتی ہے۔ اس بنا پر کیفیت کے اعتبار سے اس میں
‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues