مذہبی رواداری ، تالیف قلب
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۳۱
فرق ہوتا رہتا ہے ۔ مثال کے طور پر مومن کبھی عادت کے تحت روٹین کی نماز پڑھتا ہے ۔ کبھی وہ نماز اس طرح پڑھتا ہے کہ اس میں خشوع کی کیفیت بھی شامل ہو جاتی ہے ۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ خشوع اور انابت کی کیفیت بے حساب حد تک بڑھ جاتی ہے ۔ اس طرح کیفیات کے فرق کی نسبت سے مومن کی نیکی اس کے اعمال میں کبھی معمول کی نیکی کے طور پر لکھی جاتی ہے اور کبھی غیر معمولی اضافوں کے ساتھ سیکڑوں گنا یا ہزاروں گنا زیادہ بڑی نیکی کی حیثیت سے ۔
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایمان کیا ہے ، آپ نے فرمایا کہ جب تم کو اپنی نیکی سے خوشی ہو اور تم کو اپنی برائی سے تکلیف پہنچے ۔ اس وقت تم مومن ہو ۔ اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، گناہ کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ جب تمہارے دل میں کوئی چیز کھٹکے تو اس کو چھوڑ دو ( مسند احمد ، حدیث نمبر 22166 ) ۔
ایمانی شعور جب حقیقی معنوں میں کسی کے اندر پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کی غفلت کو توڑ دیتا ہے ۔ وہ اس کی بے حسی کو ختم کر کے اس کو ایک حساس انسان بنا دیتا ہے ، اس کی یہ ایمانی حساسیت ہر لمحہ اپنا کام کرتی رہتی ہے ۔ نیکی کے فعل پر اس کو خوشی جیسے احساس کا تجربہ ہوتا ہے اور اگر اس سے برائی سرزد ہو تو اس کی اندرونی حساسیت فوراً بیدار ہو کر اس کو ملامت کرنے لگتی ہے ۔ ایسی حالت میں بہترین طریقہ یہ ہے کہ مومن اپنے دل کو رہنما بنالے ۔ جس کام پر دل مطمئن ہو اس کو کرے اور جس کام پر دل مطمئن نہ ہو اس کو چھوڑ دے ۔
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول اس کام میں آپ کے ساتھ کون ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ ایک آزاد اور ایک غلام ۔ میں نے کہا کہ اسلام کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ اچھا بول بولنا اور کھانا کھلانا ۔ میں نے کہا کہ ایمان کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ صبر اور روادار ی ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ افضل اسلام کون
‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues