Al-Risala · March 2023 · page 32

مذہبی رواداری ، تالیف قلب

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۳۲

سا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ کون سا ایمان افضل ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اچھا اخلاق۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ کون سی نماز افضل ہے۔ آپ نے فرمایا کہ لمبا خشوع۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ افضل ہجرت کون سی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم اس چیز کو چھوڑ دو جس کو تمہارا رب ناپسند کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ کون سا جہاد افضل ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیے جائیں اور اس کا خون بہا دیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ افضل گھڑی کون سی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ آخری رات کی تہائی (مسند احمد، حدیث نمبر 19435)۔

اس حدیث میں افضل اعمال کی جو مختلف صورتیں بتائی گئی ہیں وہ ایک ہی حقیقت کی مختلف علامتیں ہیں۔ ایک انسان کے اندر جب ایمان کا گہرا شعور پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات اس کی زندگی کے مختلف شعبوں میں ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اسی راہ میں قربان ہو جاتا ہے جو گویا اس کے ایمانی عہد کا آخری ثبوت ہے۔

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس نے اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کیا تھا اور اس نے پانچوں نمازیں پڑھی ہوں اور رمضان کے روزے رکھے ہوں۔ تو اس کو بخش دیا جائے گا۔ میں نے کہا کہ میں لوگوں کو اس کی خوش خبری نہ دے دوں۔ آپ نے فرمایا کہ انھیں چھوڑ دو کہ وہ عمل کرتے رہیں (مسند احمد، حدیث نمبر 22028)۔

اس حدیث میں اسلام کی تین بنیادی تعلیمات کا ذکر ہے۔ کلمہ، نماز اور روزہ۔ کلمہ کی حقیقت معرفت خدا وندی ہے۔ نماز کی حقیقت خشوع و خضوع کی حد تک تعلق باللہ ہے۔ روزہ کی حقیقت ضبط نفس کی حد تک جا کر مسلم بن جانا ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ صفات پیدا ہو جائے وہ صرف تین معنوں میں نہیں بلکہ تمام معنوں میں خدا کا سچا بندہ بن جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues

Printed page