مذہبی رواداری ، تالیف قلب
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۴۷
معاذ بن جبل کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ایمان کی بابت سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کے لیے پسند کرو اور تم اللہ کے لیے ناپسند کرو۔ اور اپنی زبان کو اللہ کی ذکر میں مشغول رکھو۔ انہوں نے کہا کہ اور کیا، اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا کہ تم دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو تم خود اپنے لیے پسند کرتے ہو اور تم دوسروں کے لیے بھی اس چیز کو ناپسند کرو جس کو تم اپنے لیے ناپسند کرتے ہو (مسند احمد، حدیث نمبر 22130)۔
افضل ایمان سے مراد اعلیٰ ایمان ہے۔ یہ اعلیٰ ایمان اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ آدمی کا ایمان صرف لفظی اقرار کے ہم معنی نہ ہو، بلکہ وہ شعوری دریافت اور داخلی انقلاب کی حیثیت رکھتا ہو۔ اس قسم کا ایمان جب کسی کو ملتا ہے تو اس کے اندر وہی روحانی اور اخلاقی صفات پیدا ہوجاتی ہیں جن کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔ ’’اللہ کے لیے ناپسند کرو اور تم اللہ کے لیے ناپسند کرو‘ کا مطلب یہ ہے کہ محبت اور نفرت، وغیرہ کے جذبات کو اپنی خواہش کے تابع کرنے کے بجائے مکمل طور پر اللہ کے تابع کرنا۔ واقعہ افک کے موقع پر حضرت عائشہ کے خلاف الزام لگانے والوں میں ایک صاحب مسطح بن اثاثہ تھے۔ وہ ایک مفلس مہاجر اور حضرت ابوبکر کے دور کے رشتہ دار تھے۔ حضرت ابوبکر ان کی مالی مدد کرتے تھے۔ حضرت عائشہ ابوبکر کی صاحب زادی تھیں۔ قدرتی طور پر حضرت ابوبکر کو مسطح بن اثاثہ کے عمل سے تکلیف ہوئی۔ آپ نے قسم کھالی کہ وہ آئندہ مسطح کی کوئی مدد نہ کریں گے۔
لیکن قرآن میں حکم اترا— تم میں سے جولوگ صاحب مال ہیں وہ ذاتی شکایت کی بنا پر بے مال لوگوں کی امداد بند نہ کریں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ خدا تم کو معاف کردے۔ اگر تم اپنے لیے خدا سے معافی کے امیدوار ہو تو تمھیں بھی دوسروں کے بارے میں معافی کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے (24:22)۔ یہ آیت سن کر حضرت ابوبکر نے کہا: ہاں، خدا کی قسم، میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کردے۔ اور دوبارہ مسطح کی امداد جاری کردی (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 4-303)۔ مومن کی نظر میں سب سے زیادہ اہمیت خدا کی رضا ہوتی ہے۔ خدا کا حکم سامنے آتے ہی وہ فوراً جھک جاتا ہے، خواہ خدا کا حکم اس کی خواہش کے سراسر خلاف کیوں نہ ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues