Al-Risala · March 2024 · page 35

جنت ماں کے قدموں کے نیچے

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۳۵

روانہ کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان پیغامات میں رسمی کلمات کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ مگر مجھے رسمی کلمات لکھ کر تسکین نہیں ہوتی۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی ایسی بات لکھوں جس کو ہندی میں تتُو (core) کی بات کہتے ہیں۔ چنانچہ خط ملنے کے بعد میں نے انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا نکالی اور طبیہ کالج کی مناسبت سے اس میںhistory of medicine کا باب پڑھنا شروع کیا۔ اس کو پڑھتے ہوئے ایک بڑی کارآمد چیز مل گئی۔ مقالہ نگار نے لکھا تھا کہ قرون وسطیٰ میں مسلمانوں نے طب اور سائنس میں جو غیر معمولی ترقی کی وہ بڑا تعجب خیز واقعہ ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ ساری دنیا میں علمی پسماندگی کا دور تھا۔ اس زمانہ میں علم الافلاک، علم نجوم کے ہم معنی بنا ہوا تھا، اور کیمسٹری کا علم محض کیمیا گری تھا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ معمولی دھات کو سونا کس طرح بنایا جائے۔ ایسے توہم پرستی کے دور میں مسلمانوں کی علمی ترقی بے حد حیرت انگیز ہے۔ (جلد 11، صفحہ 828) انسائیکلو پیڈیا میں صرف اتنی سی بات درج تھی۔ میں نے اس میں یہ اضافہ کیا کہ اس کی وجہ توحید کا عقیدہ تھا۔ توحید کا عقیدہ آدمی کو توہم پرستی سے نکالتا ہے۔ وہ آدمی کو ہر قسم کے مصنوعی بندھنوں سے آزاد ہو کر سوچنا سکھاتا ہے۔ وہ آدمی کو برتر حقیقت کی طرف بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ چیز تھی جس نے مسلمانوں کو مذکورہ کارنامے کے قابل بنایا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں سے ایسے کارنامے ظاہر نہیں ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے توحید محض ایک رسمی عقیدہ ہے، وہ ان کے لیے ذہنی انقلاب کے ہم معنی نہیں۔ آج انڈیا انٹرنیشنل سینٹر (نئی دہلی) میں ایک پروگرام تھا۔ یہ پروگرام انڈیا کے ایک معروف عالم دین کے حلقہ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ پروگرام کے ابتدا میں مذکورہ عالم دین کی تقریر ہوئی۔ اس کے بعد حاضرین کی طرف سے سوالات و جوابات ہوئے۔ حاضرین میں تقریباً نصف ہندو اور نصف مسلمان تھے۔ مجموعی طور پر 100 سے کم افراد تھے۔ تقریر اردو زبان میں تھی۔ البتہ اس کا انگریزی ترجمہ لوگوں کے درمیان تقسیم کیا گیا۔ انگریزی ترجمہ کا عنوان یہ تھا:

Try to understand the problems and sentiments of Indian Muslims.

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page