Al-Risala · March 2024 · page 34

جنت ماں کے قدموں کے نیچے

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۳۴

آج اسلامک انسٹی ٹیوٹ، تغلق آباد میں ایک خصوصی تقریب تھی۔ یہ تقریب پاکستان کے سفیر ڈاکٹر ہمایوں خان کے اعزاز میں کی گئی تھی۔ انسٹی ٹیوٹ کے خصوصی ہال میں لمبی میز کے کنارے اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمانوں کی بڑی تعداد بیٹھی ہوئی تھی۔ میں بھی اس میں شریک تھا۔

میں اس امید میں شریک ہوا تھا کہ کچھ علمی موضوعات یا اہم اسلامی مسائل پر گفتگو ہوگی اور مسلمانوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ کے خیالات سننے کا موقع ملے گا۔ مگر وہاں گفتگو زیادہ تر شاہ بانو بیگم اور مسلم پرسنل لا کے موضوع کے گرد گھومتی رہی۔

لوگوں نے مجھ سے کہا کہ آپ بھی اپنی رائے دیجئے۔ مگر میں خاموش صرف سنتا رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے لیے یہ بات زیادہ خوشی کی نہ تھی کہ مسلمانوں کا اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ کسی مقام پر اکٹھا ہو اور اس کے پاس گفتگو کے لیے جو موضوع ہو وہ شاہ بانو بیگم اور مطلقہ کو گزارہ دینے کا مسئلہ ہو۔ یہ علامتی طور پر پورے جدید دور میں مسلمانوں کی تصویر ہے۔ موجودہ دور مسلمانوں کے لیے نہایت فیصلہ کن دور تھا۔ مگر ہمارے قائدین نے جدید دور اور اس کے بنیادی مسائل کو نہ پہلے سمجھا اور نہ آج سمجھ رہے ہیں۔ سو برس سے ان کا یہی حال ہے کہ کوئی شوشہ کی چیز لے کر اس کو اچھالتے ہیں۔ اس پر دھواں دار تقریریں ہوتی ہیں اور جلسہ اور جلوس کے ہنگامے کیے جاتے ہیں۔ چونکہ عوام خواص کے طریقے پر ہوتے ہیں اس لیے وہ بھی وہی بولی بولتے ہیں جو ان کے خواص بول رہے ہوں۔ ہمارے قائدین اگر بنیادی مسائل کو چھیڑتے تو وہی تمام لوگوں کا موضوع گفتگو رہتے۔ مگر جب وہ ”شاہ بانو بیگم“ جیسے مسائل کو چھیڑیں گے تو وہی چیز عوام کا موضوع گفتگو بنے گی جس کو انہوں نے سب سے زیادہ چھیڑا ہے۔

مجھے طبیہ کالج سہارن پور کا ایک خط (30 اپریل 1986) ملا۔ اس میں خواہش ظاہر کی گئی تھی کہ میں ان کے سالانہ میگزین کے لیے ایک پیغام بھیجوں۔

عام طریقہ یہ ہے کہ اس قسم کا خط جب کسی کے پاس آتا ہے تو وہ قلم اور دوات سے ایک تحریر لکھ کر

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page