Al-Risala · March 2024 · page 36

1986 5 مئی

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۳۶

تقریر تقریباً یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی مدافعت تھی۔ ان کی تقریر کا تاثر بظاہر یہ تھا کہ اس معاملہ میں ساری ذمہ داری ہندو فرقہ کی ہے۔

مقرر موصوف نے کہا کہ مسلمان اپنے پرسنل لا کا تحفظ چاہتے ہیں۔ یہ ایک فطری بات ہے، اور مسلمانوں کو اپنے اسلامی تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے اس کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ مگر ملک کے پریس اور ملک کے دانشوروں نے جس ردعمل کا اظہار کیا ہے وہ بہت نامناسب ہے۔ اس معاملہ میں اتنا زیادہ شور کیا گیا ہے کہ گویا ملک پر ایٹم بم کا حملہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں احساس تناسب (sense of proportion) کی بے حد اہمیت ہے۔ اگر آپ شیر پر ایئر گن چلائیں اور ایک چھوٹی چڑیا کو رائفل سے ماریں تو یہ احساس تناسب کو کھودینا ہوگا۔ یہی مسلمانوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔

مذکورہ عالم دین جب یہ بات کہہ رہے تھے تو میں نے سوچا کہ وہ خود کیا کر رہے ہیں۔ مسلم پرسنل لا کے عناصر میں آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے رات دن جو دھوم مچارکھی ہے، کیا وہی دھوم وہ اسلام کے دوسرے معاملات کے لیے بھی مچار ہے ہیں۔ مثلاً ہندوستان کے 80 کروڑ غیر مسلموں تک اسلام کو پہنچانے کے لیے کیا انہوں نے وہ جدوجہد کی ہے جو حقیقی تناسب کے اعتبار سے اس کے لیے کی جانی چاہیے۔

1986 5 مئی

میری ایک خاتون رشتہ دار کا واقعہ ہے۔ اس کی شادی ہلدوانی میں ہوئی ہے۔ شادی کے بعد وہ اپنے سسرال میں بہت خوش رہتی تھی۔ والدہ مرحومہ کی بیماری کے زمانے میں ایک مرتبہ ان کو دیکھنے کے لیے ہمارے یہاں آئی تو اس وقت وہ بہت تندرست تھی اور ہر وقت بس ہنسے جارہی تھی۔ کل معلوم ہوا کہ اس کا دماغی توازن خراب ہو گیا ہے۔ اور وہ منٹل کیس کے طور پر آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ (ایمس) میں داخل ہے۔ چنانچہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ اس کو دیکھنے کے لیے آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ گیا۔ وہاں بڑے کمرہ میں مریضہ کے بہت سارے رشتہ دار جمع تھے، جن میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page