Al-Risala · March 2024 · page 37

1986 مئی 6

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۳۷

اس وقت ایک بڑا عجیب واقعہ ہوا۔ مریضہ جو دیوانگی کی حالت میں تھی اور عجیب عجیب حرکتیں کرتی تھی، وہ ہر ایک کو اس کے نام کے ساتھ پکار رہی تھی۔ مگر میرے ساتھ اس نے بالکل مختلف معاملہ کیا۔ جب میں مریضہ کے سامنے آیا تو مریضہ کی ماں نے مریضہ کو میرے بارے میں بتایا۔ مگر مریضہ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو اللہ والے ہیں۔ اس کے بعد وہ بار بار یہ جملہ دہراتی رہی: اللہ والے آئے ہیں، اللہ والے آئے ہیں۔

کچھ دیر کے بعد مریضہ نے کہا کہ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ چنانچہ لوگوں نے سلا کر اس کے پاؤں پر کمبل ڈال دیا۔ اس وقت بھی وہ کہتی رہی کہ اللہ والے آئے ہیں، اللہ والے آئے ہیں۔ میں ذاتی طور پر مبہوت کھڑا ہوا اس کو دیکھ رہا تھا۔ اور یہ سوچ رہا تھا کہ انسان بھی کس قدر عاجز ہے۔ ایک لمحہ میں کیا سے کیا ہو جاتا ہے۔ دولت، تندرستی، آل اولاد کسی چیز کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہ تمام تر اللہ کے اختیار میں ہے کہ جس شخص کو چاہے جس حال میں رکھے۔ جب چاہے کسی کو دے اور جب چاہے کسی سے چھین لے۔

1986 مئی 6

4 مئی 1986 کو انڈیا انٹرنیشنل سینٹر (نئی دہلی) میں ڈائیلاگ (dialogue) کے نام سے ایک اجتماع تھا۔ یہ ڈائیلاگ سینٹر کے کانفرنس روم میں ہوا۔ ہندو اور مسلمان دونوں شریک تھے۔ انڈیا کے ایک دینی قائد جو کہ معروف عالم دین بھی ہیں، ان کی تقریر سے اس کا آغاز ہوا۔ تقریر کرتے ہوئے انہوں نے پرجوش طور پر کہا کہ مسلمانوں سے وفاداری کا ثبوت مانگا جاتا ہے۔ یہ ہمارے لیے ناقابل برداشت ہے۔ کسی کو حق نہیں کہ وہ ہم سے ہماری وفاداری کا ثبوت مانگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں ہرگز ہندوستان میں رہنے پر مجبور نہیں۔ مجھے کتنے ہی ملکوں کی یونیورسٹیوں سے آفر مل رہے ہیں اور میں باہر جا کر آرام کے ساتھ رہ سکتا ہوں۔

یہ بات بطور واقعہ صحیح ہو سکتی ہے کہ نہ صرف مذکورہ دینی قائد بلکہ ان کے جیسے دوسرے بہت سے قائدین کو باہر کے مسلم ملکوں کے مدارس اور جامعات سے آفر مل رہے ہوں۔ مگر یہ آفر کس چیز کا ہے ۔ وہ یقینی طور پر ”ملازمت“ کا ہے، نہ کہ ”قیادت“ کا۔ مذکورہ دینی قائد اور ان کے جیسے دوسرے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page