Al-Risala · March 2024 · page 38

7 مئی 1986

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۳۸

قائدین مسلم ملکوں میں جاکر اپنے لیے روزگار ضرور حاصل کرسکتے ہیں، مگر وہ کسی بھی ملک میں اس طرح قائد بن کر نہیں رہ سکتے جیسے کہ وہ ہندوستان میں بنے ہوئے ہیں۔

ہندوستان میں مذکورہ عالم دین نے 1966 میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر مخالف کانگریس (نان کانگریسزم) کی تحریک چلائی۔ 86-1985 میں وہ مسلم پرسنل لا کے نام پر حکومت کے خلاف جلسہ اور جلوس کی سیاست چلا رہے ہیں۔ اسی قسم کی سرگرمیوں کو میں قیادت کہہ رہا ہوں۔ اور کسی بھی مسلم ملک میں اس طرح کی قائدانہ سرگرمیاں قطعی ناممکن ہیں۔ مذکورہ دینی قائد اگر کسی مسلم ملک میں جاکر وہاں اس قسم کی سرگرمی دکھائیں تو یقینی طور پر وہاں سے نکال دیے جائیں گے۔ کسی بھی مسلم ملک میں قیام کی اجازت انہیں صرف اس قیمت پر ملے گی کہ وہ سیاست اور قیادت کی زندگی چھوڑ کر صرف ملازمت کی زندگی پر قانع ہوجائیں۔

یہاں میں اضافہ کروں گا کہ مذکورہ دینی قائد اور ان کے جیسے مسلم قائدین اگر ہندوستان میں بھی قیادت کو چھوڑ کر صرف ملازمت پر قانع ہو جائیں تو یہاں بھی وہ اطمینان کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد کوئی شخص ان سے وفاداری کا مطالبہ کرنے والا نہیں۔

7 مئی 1986

ٹائمس آف انڈیا (3 مئی 1986) کے صفحہ اول پر ایک تصویر ہے۔ اس تصویر میں ایک شخص کو اس طرح دکھایا گیا ہے کہ وہ زمین پر سر رکھ کر سجدہ کر رہا ہے۔ تصویر دیکھ کر بظاہر وہ مسجد کا ایک واقعہ معلوم ہوتا ہے ۔ مگر یہ مسجد کا واقعہ نہیں۔ چنانچہ تصویر کے نیچے حسب ذیل الفاظ لکھے ہوئے ہیں: The Punjab Chief Minister, Mr Surjit Singh Barnala, paying obeisance at the Golden Temple, on May 2,1986. مسٹر سرجیت سنگھ برنالا، پنجاب کے چیف منسٹر ہیں۔ ان کی مرضی کے تحت سورن مندر (امرتسر) میں 30 اپریل کو پولیس ایکشن ہوا۔ پولیس ایکشن کی تکمیل کے بعد وہ سورن مندر (گولڈن ٹیمپل) گئے جو سکھوں کے نزدیک ان کا سب سے زیادہ متبرک مقام ہے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے اظہار عقیدت کے طور پر اپنا سر زمین پر رکھ دیا۔ اس وقت ان کی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page