Al-Risala · March 2024 · page 39

7 مئی 1986

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۳۹

وہیئت ٹھیک ہی تھی جو نماز میں سجدہ کرنے والے کی ہوتی ہے۔

نماز میں سجدہ کا جو طریقہ بتایا گیا ہے وہ بڑا عجیب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عبودیت یا submission کے اظہار کے لیے یہ آخری طریقہ ہے۔ اس سے آگے کوئی طریقہ ممکن نہیں ہے۔ submission کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے۔ انسان عین اپنی فطرت کے زور پر یہ چاہتا ہے کہ وہ کسی کے آگے اپنے کو جھکا دے۔ خدا کے سوا دوسری جن چیزوں کے آگے آدمی ”سجدہ“ کرے وہ حقیقتاً اپنے جذبہ عبودیت کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ آدمی جب خدا کو پائے ہوئے نہ ہو تو وہ جس چیز کو بھی بظاہر نمایاں دیکھتا ہے اس کے آگے اپنے کو جھکا دیتا ہے۔ اسی کا نام شرک ہے۔ یعنی جو چیز صرف ایک خدا کا حق ہے، اس میں دوسروں کو شریک کرنا۔ اور شرک بلاشبہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ انسان ”سجدہ“ کرنے پر مجبور ہے، مگر سچا سجدہ وہی ہے جو خدا کے لیے کیا گیا ہو۔ دو صاحبان تشریف لائے۔ وہ ہریانہ کے رہنے والے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مجھے اپنے یہاں تقریر کرانے کے لیے لے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم الرسالہ پڑھتے رہے ہیں۔ ہم کو الرسالہ کے طرز فکر سے اتفاق ہے۔ اس انداز پر ہم وہاں ایک اسلامی ادارہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جس میں مسجد اور مدرسہ، مسافر خانہ اور مختلف قسم کے ہنر سکھانے کا شعبہ ہوگا۔ مقامی طور پر کچھ لوگ اپنی ذاتی لیڈری کے لیے ہماری مخالفت کر رہے ہیں۔ اگر آپ ایک دن اور ایک رات کے لیے ہمارے یہاں آجائیں گے تو یہ مخالفین دب جائیں گے۔

اس علاقہ میں الرسالہ ابھی نہیں پھیلا ہے۔ میں نے ان حضرات سے کہا کہ اگر آپ مجھ کو وہاں لے جانا چاہتے ہیں تو پہلے آپ الرسالہ کو اپنے علاقہ میں پھیلائیے۔ آپ الرسالہ کی ایجنسی لیجیے۔ جب وہاں الرسالہ کے پڑھنے والے قابل لحاظ تعداد میں پیدا ہو جائیں گے اس وقت وہ فضا بننے گی جس میں میرا وہاں جانا مفید ہوگا۔ فضا بنے سے پہلے اگر میں وہاں جاؤں تو لوگ میری بات کو سمجھ نہیں سکیں گے اور سفر کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

وہ لوگ مجھ کو اپنے علاقہ میں لے جانے پر کافی اصرار کر رہے تھے، مگر جب میں نے الرسالہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page