9 مئی 1986
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۴۰
کی ایجنسی قائم کرنے کی بات کی تو ان کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس کے بعد وہ دونوں خاموشی کے ساتھ اٹھ کر چلے گئے۔
یہی ہماری قوم کی عام حالت ہے۔ لوگ تعمیری کام کی بات کرتے ہیں، مگر تعمیری کام کی قیمت دینے کے لیے تیار نہیں۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کا ذہن بگڑا ہوا ہے۔ لیڈروں نے اپنی جھوٹی سیاست سے پوری قوم کو منفی سوچ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسی حالت میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ذہنوں کی اصلاح کی جائے۔ لوگوں کو حقیقت پسندانہ انداز میں سوچنے والا بنایا جائے ۔ اس کے بعد ہی کوئی حقیقی تعمیری کام کیا جاسکتا ہے۔ مگر ذہن بنانے کا کام خشک کام ہے، اس لیے کوئی اس کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
9 مئی 1986
ایک پاکستانی مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے پوچھا پاکستان میں ہندوؤں کا کیا حال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اولاً تو ہندو بہت ہی کم ہیں۔ ان کی زیادہ تعداد 1947 کے انقلاب میں پاکستان کو چھوڑ کر ہندوستان چلی آئی۔ اور جو تھوڑے سے ہندو وہاں رہ گئے ہیں، وہ تہذیبی اعتبار سے بالکل مسلمانوں کی طرح رہتے ہیں۔ کسی بھی اعتبار سے وہ اپنا تشخص باقی رکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔
میں نے کہا کہ یہ ایک بہت اہم بات ہے۔ اس سے مسلمانوں کو سبق لینا چاہیے۔
پاکستان کی تحریک مسلمانوں نے یہ کہہ کر چلائی تھی کہ غیر منقسم ہندوستان کو دو جغرافی حصوں میں بانٹ دیا جائے۔ ایک ہندو انڈیا اور دوسرا مسلم انڈیا۔ ایک طرف وہ ہو جائیں اور دوسری طرف ہم ہو جائیں۔ مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت نے اس نعرہ کا ساتھ دیا اور ہندوستان بھارت اور پاکستان کی شکل میں الگ الگ ہو گیا۔
پاکستان کو ہندوؤں سے تقریباً خالی کرا لیا گیا۔ وہاں ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ ہندو اپنے الگ قومی تشخص کے ساتھ وہاں نہ رہ سکیں۔ وہ رہیں تو صرف اس قیمت پر رہیں کہ وہ مسلم تہذیب میں بالکل ضم ہو جائیں۔ موجودہ پاکستان اس کا ایک نمونہ ہے۔ اس کے برعکس، ہندوستان میں با وجود یہ کہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues