Al-Risala · March 2024 · page 41

10 مئی 1986

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۴۱

وہ پاکستانی منطق کے مطابق ہندو انڈیا تھا، مسلمان تقریباً 10 کروڑ کی تعداد میں باقی رہے۔ یعنی اس سے بھی زیادہ جتنا کہ وہ موجودہ پاکستان میں ہیں۔ مزید یہ کہ انہوں نے یہاں پورے معنوں میں اپنا قومی تشخص باقی رکھا ہے۔

اس کے باوجود ہندوستان کے ہندو مسلمانوں کو برداشت کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں جو نام نہاد فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں وہ تمام تر مسلمانوں کی حماقت یا شرارت سے ہوتے ہیں۔ اگر ہندو اسی انتہا پسندانہ ذہن کا ثبوت دیتا جس کا ثبوت پاکستان کے مسلمانوں نے دیا ہے تو آج ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ دوسری نظر آتی۔

حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہ کرے وہ خدا کا بھی شکر نہیں کر سکتا (مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ، لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ عز وجل) مسند احمد ، حدیث نمبر 7504۔ اس حدیث کے مطابق مسلمانوں کو ہندوؤں کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اگر وہ ہندو کے شکر گزار نہ بنیں گے تو وہ خدا کے شکر گزار بھی نہیں بن سکتے۔

10 مئی 1986

مئی 1986 میں مسلم خواتین کے طلاق سے متعلق قانون لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے پاس ہو کر باقاعدہ ایکٹ بن گیا۔ اس کا سرکاری نام یہ ہے:

Muslims Women (Protection of Right on Divorce) Bill 1986. اس بل پر مسلم قائدین آج کل خوشیاں منا رہے ہیں۔ اس کو وہ سیکولر ہندوستان میں اسلام کی عظیم فتح سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ جھوٹی فتح پر جھوٹی خوشی منانا ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جس میں مسلمان پچھلے سوسال سے مبتلا ہیں۔

ایک لطیفہ ہے کہ ایک علاقہ میں ایک شیر گھس آیا۔ اس نے جانوروں اور انسانوں کو پھاڑنا شروع کر دیا۔ سارے علاقے میں زبردست خوف وہراس پھیل گیا۔ اس وقت ایک بزرگ نے یہ کیا کہ اپنے گھر میں کا غذ کا ایک شیر بنایا۔ اور پھر اس کاغذی شیر پر حملہ کر کے اس کا خاتمہ کر دیا۔ بزرگ نے یہ سمجھا کہ انہوں نے شیر پر فتح حاصل کر لی ہے۔ حالانکہ انہوں نے جس

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page