10 مئی 1986
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۴۲
چیز پر فتح حاصل کی تھی وہ محض ایک کاغذ کی تصویر تھی ، نہ کہ حقیقتاً ایک زندہ شیر۔ یہی ماحول موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا ہوا ہے۔ وہ ایک کے بعد ایک کاغذی شیر بناتے ہیں اور اس کو ہلاک کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اسلام مخالف طاقتوں پر فتح حاصل کرلی۔ مگر اسلام مخالف طاقتیں بدستور موجود رہتی ہیں بلکہ ان میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ جو شخص بھی حالات پر گہری نظر رکھتا ہو اس کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ مذکورہ مسلم خواتین کا کچھ بھی تعلق اصل حالات کی اصلاح سے نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مطلقہ مسلم خواتین کا مسئلہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے، نہ کہ کوئی قانونی مسئلہ۔ اس قسم کے قوانین سے یہ امید رکھنا کہ اصل مسئلہ اس سے حل ہوجائے گا ایسا ہی ہے جیسے کاغذی شیر کو مار کر یہ سمجھنا کہ زندہ شیر بھی ہلاک ہوگیا ہے۔ ہمارے قائدین کو اگر ملت کا درد ہے تو ان کو معاشرے کی اصلاح میں لگ جانا چاہیے۔ مذکورہ بالا قسم کا عمل ، قرآن کے الفاظ میں ، صرف يُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا (3:188) کا مصداق ہے۔ یعنی، وہ چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کیے اس پر ان کی تعریف ہو۔ 12 مئی 1986 آج ایک مجلس میں موت کا ذکر آیا۔ میں نے کہا کہ موت اس دنیا میں سب سے زیادہ یقینی چیز ہے۔ وہ ہر آدمی کے اوپر اپنے وقت پر آ جاتی ہے۔ مجلس کے ایک صاحب نے کسی قدر بے تکلف انداز میں کہا کہ موت کو کون نہیں جانتا۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس سے ہر شخص باخبر ہے۔ میں نے کہا کہ لوگ عام طور پر موت کو صرف مانتے ہیں کہ انہوں نے اس کو سنا ہے۔ موت ان کے لیے ایک سنی ہوئی بات ہے۔ مگر میں اپنے بارے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ موت میری دریافت ہے۔ میں موت کو اس لیے مانتا ہوں کہ میں نے خود اس کو شعوری سطح پر دریافت کیا ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنا ایک واقعہ بتایا۔ غالباً 1960 کی بات ہے۔ اس وقت میں اپنے آبائی وطن (بڈھریا) میں تھا۔ میں مکان کی چھت پر سورہا تھا۔ اور گھر کے بقیہ لوگ نیچے سوئے تھے۔ تقریباً نصف شب میں میری نیند کھلی اور اچانک مجھے اپنا ایک معاملہ یاد آیا۔ ایک صاحب نے مجھے 100 روپے بطور امانت دیا تھا۔ یہ سو روپے کا ایک نوٹ تھا۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues