سفرِ معرفت
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۱۳
(وفات 1642ء) نے انجام دیا۔ جرمن سائنس داں البرٹ آئنسٹین (1955-1879ء) نے درست طور پر لکھا ہے کہ گلیلیو جدید سائنس کا بانی تھا:
“Galileo was the father of modern science.”
آئنسٹائن کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ گلیلیو سے پہلے سائنس بیک وقت دو قسم کے خیالات میں الجھی ہوئی تھی۔ یعنی حقیقت کا قابلِ مشاہدہ پہلو (observable aspect) اور ناقابلِ مشاہدہ پہلو (non-observable aspect)۔ دوسرے لفظوں میں کیفیاتی (qualitative) پہلو اور کمیاتی (quantitative) پہلو۔ گلیلیو نے دونوں کو ایک دوسرے سے ڈ ی لنک کر دیا۔ ناقابلِ مشاہدہ پہلو کو فلسفیانہ تلاش کے خانے میں رکھا، اور قابلِ مشاہدہ پہلو کو سائنس کی تلاش کے دائرے میں ڈال دیا۔ اس سے پہلے سائنس کا سفر گویا کہ ایک بند دروازے میں رکا ہوا تھا، گلیلیو نے اس بند دروازے کو کھول دیا۔
گلیلیو اس دریافت تک کس طرح پہنچا۔ اس کا بھی ایک سبب تھا۔ گلیلیو کے زمانے میں دوربین (telescope) ابتدائی طور پر دریافت ہوئی ۔ گلیلیو نے پہلی بار 1610ء میں اس کے ذریعے سیاروں کی گردش کا براہِ راست مطالعہ کیا۔ اس طرح شمسی نظام (solar system) کا براہِ راست مطالعہ کا آغاز ہوا۔ اسی کے ساتھ سائنس کا ایک نیا دور شروع ہو گیا، جس میں پوری فیزیکل ورلڈ ایک قابل مطالعہ چیز بن گئی۔
اس اعتبار سے گلیلیو نہ صرف فادر آف ماڈرن سائنس ہے، بلکہ وہ بالواسطہ طور پر فادر آف ماڈرن علم کلام بھی ہے۔ کیوں کہ گلیلیو سے پہلے علم کلام صرف تکنیکل بحثوں میں الجھا ہوا تھا، وہ کسی حقیقت کو دریافت نہیں کر پایا تھا۔ لیکن گلیلیو کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ علم کلام کو ایک نئے دور میں پہنچایا جا سکے، یعنی وہ دور جس کو قرآن میں تبیین حق کا دور بتایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی متعلقہ آیت (41:53) کا ترجمہ یہ ہے: عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔ (علم کلام کی تفصیل کے لیے دیکھیے، ماہنامہ الرسالہ، اپریل 1978، بعنوان: علم کلام کی حقیقت)۔
جدید سائنسی دور سے پہلے انسان کائناتی نشانیوں کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ چنانچہ قدیم
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues