Al-Risala · March 2024 · page 48

19 مئی 1986

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۴۸

یہ واقعہ سکھ روایات کے مطابق جرم تھا۔ اس سے گوردوارہ کا تقدس مجروح ہوا۔ چنانچہ اکالی تخت نے مسٹر برنالا کے نام نوٹس جاری کیا۔ وہ نوٹس کے مطابق 17 مئی 1986 کو اکالی تخت کے سامنے حاضر ہوئے۔ مسٹر برنالا نے اکالی تخت کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کیا۔ اس کے بعد اکالی تخت کی طرف سے ان کے لیے سزا کا اعلان کیا گیا۔ اس سزا کی پانچ دفعات تھیں ۔ انگریزی اخبار کی رپورٹنگ کے مطابق اس کی ایک دفعہ یہ تھی :

To perform the service of dusting the shoes at any gurudwara for one week. وہ ایک ہفتہ تک کسی گوردوارہ میں جو تا صاف کرنے کی خدمت انجام دیں (ٹائمس آف انڈیا، 18 مئی 1986 )۔ مسٹر برنالا نے سرجھکا کر اعلان کیا کہ وہ اکالی تخت کے فیصلہ کو قبول کرتے ہیں۔

سکھ حضرات نے آج کل آزاد سکھستان بنانے کے لیے توڑ پھوڑ کی جو سیاست چلا رکھی ہے اس سے مجھے صدفی صد اختلاف ہے۔ میں اس کو صرف حماقت سمجھتا ہوں۔ مگر مذکورہ واقعہ بتاتا ہے کہ سکھ حضرات کی مذہبی تنظیم کتنی مضبوط ہے۔ یہی طاقت ایران میں شیعہ پیشواؤں کو حاصل تھی۔ مگر عجیب بات ہے کہ ایران میں بھی ایسی طاقت کا استعمال تخریب کے لیے کیا گیا اور پنجاب میں بھی اس کا استعمال صرف تخریب کے لیے ہو رہا ہے۔

19 مئی 1986

"ہر آدمی جھوٹے اسلام میں آگیا ہے، مگر وہ سچے اسلام سے دور ہے “ ــــ بے اختیار میری زبان سے نکلا۔ آج کل کے مسلمانوں کو میں دیکھتا ہوں تو تمام مسلمان، خواہ وہ اصاغر ہوں یا اکابر، مجھے اسی ایک سطح پر نظر آتے ہیں۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ اسلام پر پرجوش تقریریں کر رہا ہے۔ ہر آدمی اسلام پر مضامین لکھ کر چھاپ رہا ہے۔ ہر آدمی اسلام کا جھنڈا اٹھائے ہوئے کھڑا ہے۔ مگر جب عملی تجربہ کیجئے تو ہر مسلمان ایسا نظر آئے گا جیسے وہ اسلام سے بالکل خالی ہو۔ آج کل کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے خلاف ایک لفظ نہیں سن سکتے۔ مگر دوسروں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page