Al-Risala · March 2024 · page 49

19 مئی 1986

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۴۹

کے خلاف ہر آدمی تقریر و تحریر کا مجاہد بنا ہوا ہے۔ اپنی ذات کے معاملہ میں اس کے سوچنے کا انداز دوسرا ہے اور دوسروں کے بارے میں اس کے سوچنے کا انداز دوسرا۔ کسی کو ایک امانت سونپ کر آپ یہ امید نہیں کر سکتے کہ وہ اس امانت میں خیانت نہیں کرے گا۔ کسی شخص کو آپ ایک سچی نصیحت کریں تو آپ کی یہ امید کبھی پوری نہ ہوگی کہ وہ نصیحت کو مانے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے ۔ ایک شخص کے اندر انسانیت جاگ اٹھے تو ناممکن ہے کہ قرآن وحدیث کا کوئی بھی حوالہ اس کو دوبارہ اپنے غلط موقف سے دور کر سکے۔

آج مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ خواہ کتنی ہی کھلی ہوئی غلطی کرے وہ کبھی اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرے گا۔ وہ ایک بار بے انصافی کی طرف قدم اٹھادے تو اس کو کسی بھی طرح انصاف کی طرف واپس لانا ممکن نہیں ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان فکری زوال کے اعتبار سے آخری حد تک پہنچ چکے ہیں۔ حتی کہ ان کا حال دیکھ کر کبھی کبھی مجھے اندیشہ ہونے لگتا ہے کہ وہ، بائبل کے الفاظ میں ”مردود چاندی (rejected silver) “ تو نہیں ہو گئے ہیں، جس طرح ان سے پہلے کی اہل کتاب قومیں اپنے زوال کے زمانے میں ہو گئی تھیں، جب کہ خدا نے ان کو ریجیکٹ کر دیا تھا۔ جیسا کہ بائبل میں بیان کیا گیا ہے :

وہ سب کے سب نہایت سرکش ہیں۔ وہ غیبت کرتے ہیں۔ وہ تانبا اور لوہا ہیں۔ وہ سب کے سب معاملہ کے کھوٹے ہیں۔ دھونکنی جل گئی۔ سیسا آگ سے بھسم ہو گیا۔ صاف کرنے والے نے بے فائدہ صاف کیا۔ کیوں کہ شریر الگ نہیں ہوئے۔ وہ مردود چاندی“ کہلائیں گے۔ کیوں کہ خداوند نے اُن کو رد کر دیا ہے۔ (یرمیاہ، 30-6:28) They are all hardened rebels, going about to slander. They are bronze and iron; they all act corruptly. The bellows blow fiercely to burn away the lead with fire, but the refining goes on in vain; the wicked are not purged out. They are called REJECTED SILVER, because the Lord has rejected them. (Jeremiah 6:28-30)

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page