Al-Risala · March 2024 · page 50

عیب خوانی، قصیدہ خوانی

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۵۰

عیب خوانی، قصیدہ خوانی

مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ موجودہ زمانے میں صرف دو کلچر کو جانتے ہیں، عیب خوانی یا قصیدہ خوانی۔ اپنے مفروضہ اکابر کے بارے میں صرف قصیدہ خوانی، اور دوسروں کے بارے میں صرف عیب خوانی۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں میں یہ کلچر اتنا عام ہے کہ شاید ہی اس میں کوئی استثنا پایا جائے ۔ اپنے حلقے کی زندہ یا مردہ شخصیتوں کی لفظی قصیدہ خوانی، اور اپنے حلقے سے باہر کے لوگوں کی لفظی عیب خوانی ۔ نہ ان کی قصیدہ خوانی دلائل پر مبنی ہوتی ہے، اور نہ ان کی عیب خوانی دلائل کی زبان میں ہوتی ہے۔ وہ اپنوں کے بارے میں صرف تعریف کی زبان جانتے ہیں، اور دوسروں کے بارے میں صرف تنقیص کی زبان۔

یہ امت کے دورِ زوال کا ظاہر ہے ۔ امت جب اپنے زمانہ عروج میں ہو تو وہ ہر شخص کو میرٹ (merit) کے اعتبار سے جانچتی ہے۔ وہ ہر ایک کے بارے میں میرٹ کی بنیاد پر غیر متعصبانہ رائے قائم کرتی ہے۔ خواہ وہ اپنا ہو یا اپنے دائرے سے باہر کوئی شخص۔ مگر جب امت دور زوال میں پہنچ جائے تو اس وقت اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ انسانوں کو اپنے اور غیر میں تقسیم کردیتی ہے۔ اپنوں کے بارے میں اس کے پاس صرف اچھے الفاظ ہوتے ہیں، اور غیروں کے بارے میں صرف برے الفاظ۔ جب امت میں انسانوں کو میرٹ پر جانچنے کا رواج ہو، تو سمجھیے کہ امت زندہ ہے، اور جب امت کے لکھنے اور بولنے والے لوگ حق کے بجائے مدح اور ذَم کی زبان بولنے لگیں تو سمجھیے کہ امت مردہ ہوچکی ہے۔ جب امت پر یہ وقت آجائے تو کرنے کا صرف ایک کام باقی رہتا ہے ۔ وہ ہے افراد کی اصلاح۔ امت جب زندہ ہو تو مبنی بر اجتماع انداز کار آمد ہو سکتا ہے، لیکن جب امت اپنے دور زوال میں پہنچ جائے تو اس وقت افراد کو تلاش کیجیے اور افراد کی اصلاح کو اپنا مقصد بنا لیجیے ۔ اس کے سوا کوئی اور طریقہ ہرگز نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ امت کے دورِ زوال میں مبنی بر امت بڑے بڑے پروگرام بنائیں، وہ بلاشبہ فطرت کے قانون سے آخری حد تک نا واقف ہیں۔ ایسے مصلحین خود قابلِ اصلاح ہیں، وہ امت کے مصلح نہیں بن سکتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page