سفرِ معرفت
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۱۴
زمانے میں معرفت اعلیٰ تک پہنچنے کے لیے فریم ورک ہی موجود نہ تھا۔ موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کے بعد انسان کو اعلیٰ فریم ورک حاصل ہوا۔ اسی انقلاب کا یہ نتیجہ ہے کہ بیسویں صدی میں علم الہیات میں بہت سے نہایت قابل قدر کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نمائندہ کتاب وہ ہے، جس کا عربی ترجمہ اس معنی خیز عنوان کے ساتھ چھپا ہے — اللہ يتجلى فى عصر العلم (مترجم ڈاکٹر الدمرداش عبدالمجید سرحان)۔ اصل کتاب کا انگریزی ٹائٹل حسب ذیل ہے:
“The Evidence of God in an Expanding Universe.”
اس اعتبار سے غالباً یہ کہنا صحیح ہوگا کہ علم الہیات یا علم کلام کے معاملے میں گلیلیو گلیلی کا کارنامہ ایک تائیدی کارنامہ ہے۔ غالباً اسی تائید کا ذکر حدیث میں ان الفاظ میں آیا ہے: اِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (مسند الشهاب القضاعی، حدیث نمبر 1096)۔ یعنی اللہ تعالیٰ ضرور اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعہ کرے گا۔
میرا قیاس ہے کہ یہاں "الرجل الفاجر" سے مراد سیکولر انسان ہے، اور یہ سیکولر انسان غالباً گلیلیو گلیلی تھا۔ و اللہ اعلم بالصواب۔ گلیلیو گلیلی کی اس دریافت کے بعد بیک وقت علم کے دو دروازے کھلے۔ ایک دروازہ تھا فیزیکل سائنس کا ڈیولپمنٹ، اور دوسرا دروازہ تھا علم الہیات کا دروازہ، جو اس سے پہلے کلامی موشگافیوں میں پھنسا ہوا تھا۔ اس کو ایک تسلیم شدہ علمی بنیاد حاصل ہوئی۔ اس کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ اس علمی بنیاد کو استعمال کرکے علم الہیات کو دورِ جدید میں نئی طاقت کے ساتھ مرتب کیا جاسکے۔ توحید کا آغاز معرفت (realisation) سے ہوتا ہے۔ یعنی کائناتی نشانیوں میں تدبر و تفکر کرکے خدا کو خالق و مالک کی حیثیت سے دریافت کرنا۔ قرآن کی دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی نشانیاں (signs) اتنی زیادہ ہیں کہ ان کی کوئی گنتی نہیں ہوسکتی۔ یہی وہ لامحدود کائناتی نشانیاں ہیں جن پر تدبر کرکے انسان اپنے رب کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ یہ تدبر پہلے روایتی فریم ورک میں کیا جاتا تھا۔ گلیلیو کے بعد تدبر کا یہ عمل سائنسی فریم ورک میں کرنا ممکن ہوگیا ہے۔ اس طرح آج ایک انسان کے لیے یہ بات اعلیٰ پیمانے پر ممکن ہوچکی ہے کہ وہ اللہ کی بے پایاں عظمت کو دریافت کرکے اس کے آگے جھک جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues