Al-Risala · January 2024 · page 15

سفرِ معرفت

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۱۵

مطالعۂ حدیث شرح مشکوٰۃ المصابیح ( حدیث نمبر 109-96)

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور اس وقت آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں ۔ آپ نے کہا کہ کیا تم جانتے ہو یہ دو کتابیں کیا ہیں۔ ہم نے کہا کہ نہیں اے خدا کے رسول ، الا یہ کہ آپ ہمیں بتائیں ۔ پھر آپ نے داہنے ہاتھ والی کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ یہ ایک کتاب ہے جو رب العالمین کی طرف سے ہے۔ اس میں اہل جنت کے نام ہیں ، ان کے باپوں کے نام اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں۔ پھر ان کی کل تعداد آخر میں درج کر دی ہے، اب ان میں نہ کبھی زیادتی ہوگی اور نہ کمی۔ پھر آپ نے بائیں ہاتھ والی کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ یہ ایک کتاب ہے جو رب العالمین کی طرف سے ہے۔ اس میں اہل دوزخ کے نام ہیں ، اس میں باپوں کے نام اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں۔ پھر ان کی کل تعداد آخر میں درج کر دی ہے ۔ اب ان میں نہ کبھی زیادتی ہوگی اور نہ کمی ۔ پھر آپ کے اصحاب نے کہا کہ اے خدا کے رسول۔ پھر کس چیز میں عمل ، اگر سب کچھ ہو چکا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اعتدال کے ساتھ سیدھی راہ پر چلنے کی کوشش رہو (سَدِّدُوا وَقَارِبُوا) ۔ کیوں کہ جو شخص جنت کا اہل ہے اس کا خاتمہ جنت والوں جیسے عمل پر ہی ہوگا اگر چہ وہ کوئی بھی عمل کرے۔ اور جو شخص دوزخ کا اہل ہے۔ اس کا خاتمہ دوزخ والوں جیسے عمل پر ہی ہوگا اگر چہ وہ کوئی بھی عمل کرے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کی طرف اشارہ کیا اور دونوں کو ایک طرف ڈال دیا۔ پھر آپ نے فرمایا : تمہارا رب اپنے بندوں سے فارغ ہو چکا ، ایک گروہ جنت میں اور ایک گروہ دوزخ میں (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2141)۔ حدیث کے یہ الفاظ (سَدِّدُوا وَقَارِبُوا) بتاتے ہیں کہ حدیث کا مطلب کیا ہے— اعتدال کے ساتھ سیدھی راہ پر چلنے کی کوشش کرتے رہو۔ یہی صابرانہ روش ہے۔ یہ کسی آدمی کے سنجیدہ مزاج

‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues

Printed page