سفرِ معرفت
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۱۶
ہونے کی ایک علامت ہے۔ اس کا تعلق کسی ایک معاملے سے نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام معاملات سے اس کا تعلق ہے۔ جو آدمی اپنے قول وفعل میں اعتدال پر قائم رہے، وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ جذباتیت سے پاک ہے۔ وہ جب بولتا ہے تو سوچ کر بولتا ہے اور جب کرتا ہے تو وہ سوچ سمجھ کر کرتا ہے، وہ سطحیت پسندی (superficiality) سے پاک ہے۔ اس کا کردار اس کی عقل کے تابع ہوتا ہے، نہ کہ اس کے جذبات کے تابع۔ ایسا ہی انسان اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو یہ نصیحت کی تھی کہ خود کو راہ راست پر رکھو، بے اعتدالی سے بچو، صبح وشام کی عبادت کرو، اور رات کے کچھ حصے میں۔ میانہ روی اختیار کرو، میانہ روی (moderation) تم منزل تک پہنچ جاؤ گے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6463)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں موجود مذکورہ کتاب میں درج ناموں سے مراد غالباً ذاتی نام نہیں ہیں بلکہ صفاتی نام ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت اور جہنم کا فیصلہ جن صفات (اصول) پر کیا جانا مقدر ہے انھیں صفات پر اس کا فیصلہ ہوگا۔ کسی اور صفت یا کسی اور نسبت کی بنیاد پر کسی کے لیے جنت یا جہنم کا فیصلہ ہونے والا نہیں۔ اب اس معاملے میں اللہ کا فیصلہ بدلنے والا نہیں۔ چنانچہ جو انسان پوری سنجیدگی اور اعتدال کے ساتھ ان صفات کو اپنانے کی کوشش کرے گا، اس کے بارے میں امید ہے کہ وہ ضرور اللہ کی نصرت اور رحمت سے جنت کا مستحق قرار پائے گا۔
ابو خزامہ تابعی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول، وہ جھاڑ پھونک جو ہم کراتے ہیں اور دوا جس کے ذریعہ ہم علاج کرتے ہیں اور حفاظتی اسباب جس سے ہم اپنا بچاؤ کرتے ہیں، کیا یہ اللہ کی تقدیر کو کچھ بدل دیتی ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ خود اللہ کی تقدیر سے ہیں (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2065 ، سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3437)۔
حدیث کے آخری الفاظ (هِيَ مِنْ قَدْرِ اللهِ) سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ قسم کی حدیثوں کا مطلب اسباب دنیا کو اختیار کرنے سے روکنا نہیں ہے۔ کیوں کہ اس کے مطابق، خود اسباب میں
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues