Al-Risala · January 2024 · page 17

سفرِ معرفت

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۱۷

تاثیر(effect) بھی خدا کی مقدر کی ہوئی ہے، وہ ان اشیا کی ذاتی صفت نہیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف آئے اور ہم تقدیر کے مسئلہ پر بحث کر رہے تھے۔ آپ غضبناک ہو گئے، یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ گویا کہ آپ کے رخساروں پر انار کے دانے نچوڑ دیے گئے ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا تم لوگوں کو اسی کا حکم دیا گیا ہے، کیا میں اسی کے ساتھ تمہارے پاس بھیجا گیا ہوں۔ تم سے پہلے کے لوگ تباہ کر دیے گئے جب کہ انھوں نے اس معاملے میں بحث کی۔ میں نے تمہارے اوپر لازم کیا کہ تم اس معاملے میں بحث نہ کرو (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2133)۔

تقدیر کا مسئلہ ایک بے حد نازک مسئلہ ہے۔ الہیات کے میدان میں قدیم زمانے سے یہ بحث جاری ہے کہ اس دنیا میں انسان آزاد ہے، یا مجبور۔ بظاہر انسان اس دنیا میں اپنے آپ کو آزاد پاتا ہے، لیکن جب خدا قادرِ مطلق ہے تو یہ بات نا قابل قیاس معلوم ہوتی ہے کہ خدا کی قدرتِ کاملہ کے درمیان انسان کو خود مختاری حاصل ہو۔ اس تصور پر بہت زیادہ لکھا گیا ہے۔ اردو شاعر میر تقی میر (وفات 1810ء) نے اسی بات کو اس طرح نظم کیا ہے:

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی چاہتے ہیں سو آپ کرے ہیں، ہم کو عبث بدنام کیا مگر یہ اعتراض ایک غیر معقول اعتراض ہے۔ کیوں کہ خدا کو اگر ہر قسم کا اختیار حاصل ہے تو اُس کو یقیناً یہ بھی اختیار ہے کہ وہ کسی مقام پر اپنی قدرت کو محدود کرلے۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنی حقیقت کے اعتبار سے اللہ رب العالمين کے آگے مکمل طور پر مجبور مخلوق ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے منصوبہ تخلیق کے تحت اپنی قدرت کو وقتی طور پر محدود کر لیا ہے، اور اس صفت اختیار (قدرت) کا ایک شمہ (iota) انسان کو محدود مدت کے لیے بطور عطیہ دے دیا ہے۔ موت گویا اس صفتِ اختیار کے خاتمہ کا اعلان ہے۔

یہ عطیہ ٹسٹ (test) کے لیے ہے۔ یعنی انسان اگر اپنے اختیار کا غلط استعمال (misuse) کرے تو اس کی پکڑ ہوگی، لیکن اگر وہ اختیار کا درست استعمال کرے تو اس کو انعام ملے گا۔ اسی کے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues

Printed page