سفرِ معرفت
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۱۸
ساتھ انسان کو قلیل علم دیا گیا ہے (الاسراء، 85)۔ اپنی اس محدودیت کی بنا پر انسانوں کے لیے تقدیر کی تفصیلی تہہ تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں اجمالی علم پر قناعت کرے۔ اس معاملے میں کلی علم کا حصول اس کے لیے ممکن نہیں۔ یہ قیاس بظاہر ایک نظری قیاس ہے۔ بلیک ہول کی دریافت نے اس قیاس کے لیے مظاہراتی سطح پر ایک عملی تصدیق فراہم کردی۔ بلیک ہول کا نظریہ تقدیر کے معاملے میں انسانی علم کی محدودیت کو قابل فہم بنارہا ہے۔ ایمسٹرڈم (نیدرلینڈس) میں ماہرین طبیعیات (physicists) کی ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس موقع پر فزکس کا نوبل پرائز (1980ء) پانے والے ایک سائنس داں مسٹر جیمس واٹسن (James Watson Cronin, 1931-2016) نے اپنے مقالے میں بتایا کہ ہماری کائنات کا 96 فی صد حصہ سیاہ مادہ (dark matter) پر مشتمل ہے۔ اُس کی روشنی یا ریڈی ایشن ہم تک نہیں پہنچتا، اس لیے ہم اُس کو براہ راست طور پر دیکھ نہیں پاتے: "Dark matter can not be detected directly, because it does not emit or reflect light or radiation."
جیمس واٹسن نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کائنات کو جانتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم ہر چیز کے صرف 4 فی صد حصے کو جان سکتے ہیں:
"We think we understand the universe, but we only understand four percent of everything." (The Times of India, September 23, 2007, p. 20)
بلیک ہول کا نظریہ تقدیر کے مسئلے میں انسانی علم کی محدودیت کو قابل فہم بنارہا ہے۔ ابن ماجہ نے بھی اسی طرح کی روایت عمروبن شعیب سے، انھوں نے اپنے والد سے، انھوں نے اپنے دادا سے نقل کی ہے (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 85)۔
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: اللہ نے آدم کو مٹھی بھر خاک سے پیدا کیا۔ اس کو اللہ نے ساری زمین سے لیا تھا۔ پس آدم کی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues