سفرِ معرفت
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۱۹
اولادِ زمین کے اندازے پر ہوئی ۔ ان میں سے کچھ سرخ ہیں اور کچھ سفید اور کچھ کالے کچھ درمیانی ۔ اور کچھ نرم اور کچھ سخت اور کچھ ناپاک اور کچھ پاک ( مسند احمد، حدیث نمبر 19642 ؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2955 ؛ سنن ابی داؤد ، حدیث نمبر 4693 ) ۔
انسانی جسم کے ترکیبی اجزاء عین وہی ہیں جو سیارہ زمین کے ترکیبی اجزاء ہیں۔ البتہ انسان کے اندر جو روح ہے وہ غیر زمینی یا غیر مادی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے مادی وجود سے اوپر اٹھائے اور اپنے آپ کو ایک غیر مادی وجود کی حیثیت سے ترقی دینے کی کوشش کرے۔ وہ اپنی روح کو اپنی اصل ہستی سمجھے اور اپنے جسم کو صرف ایک وقتی قیام گاہ کا درجہ دے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: "اللہ نے اپنی مخلوق کو ایک تاریکی میں پیدا کیا۔ پھر ان کے اوپر اپنے نور کا ایک حصہ ڈال دیا۔ پھر جس نے اس نور میں سے پایا وہ ہدایت یاب ہوا۔ اور جس نے اس کو نہیں پایا وہ گمراہ ہوگیا۔ " اسی بنا پر میں ( عبداللہ بن عمرو یہ کہتا ہوں کہ اللہ کے علم پر قلم سوکھ گیا ہے ( مسند احمد، حدیث نمبر 6644؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2642 )۔
اس حدیث میں تمثیلی زبان میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کے جسمانی وجود کی بقا کے لیے وہ اسباب کافی ہیں جو زمین پر پائے جاتے ہیں۔ مگر انسان کے روحانی وجود کی بقا اور ارتقا صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ اس کو خدا کے فیض سے خصوصی ربانی حصہ ملے۔ " اللہ کے علم پر قلم سوکھ گیا ہے"۔ یعنی اللہ کے علم کی بنیاد پر قلم کو جو کائناتٰی منصوبہ لکھنا تھا، وہ اس نے اللہ کے حکم سے لکھ دیا ہے، اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ اس حقیقت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے ــ اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں (10:64)۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ کہتے تھے : " یا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ" (اے دلوں کے پھیرنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues