Al-Risala · January 2024 · page 20

سفرِ معرفت

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۲۰

جمادے)۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، ہم آپ پر ایمان لائے اور جو کچھ آپ لے آئے اس پر۔ پھر کیا آپ ہمارے اوپر اندیشہ کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ لوگوں کے دل خدا کی انگلیوں کے درمیان ہیں۔ وہ ان کو الٹا پلٹتا ہے جیسا کہ وہ چاہتا ہے (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2140؛ سنن ابن ماجه 3834)۔

موجودہ دنیا میں انسان کو مکمل طور پر ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے مگر اسی کے ساتھ دوسری حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیت کے اعتبار سے آخری حد تک ایک عاجز مخلوق ہے ۔ اس عجز کی بنا پر ہر وقت اس کے لیے اندیشہ ہے کہ کوئی بھی چیز اس کو حق سے ہٹا دے۔ یہی عجز کا احساس آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ خدا سے بار بار حق پر ثابت قدمی کی دعا کرتا رہے۔ اس حقیقت کو ایک دوسری حدیث رسول میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: سَدِّدُوا، وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا، فَإِنَّهُ لَا يَدْخُلُ أَحَدًا الْجَنَّةَ عَمَلُهُ قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6467)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا رویہ درست رکھو اور میانہ روی پر قائم رہو اور پُر امید رہو، کیوں کہ کسی بھی شخص کو اُس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ لوگوں نے کہا کہ کیا آپ کو بھی نہیں اے خدا کے رسول، آپ نے فرمایا کہ ہاں مجھ کو بھی نہیں، الا یہ کہ اللہ مجھ کو اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔

ان دونوں حدیثوں کو ملا کر پڑھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کی رحمت اور مغفرت کے حصول کے لیے اپنی کوشش کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے ثابت قدمی کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دل کی مثال ایسے پر (feather) کی ہے جو ایک کھلے میدان میں ہو۔ اس کو ہوائیں اوپر نیچے الٹ پلٹ کر رہی ہوں (مسند احمد ، حدیث نمبر 19758)۔

انسان اگر اپنے وجود اور اس اتھاہ کائنات کے درمیان تقابلی غور و فکر کرے تو اس کو یہ معلوم

‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues

Printed page