سفرِ معرفت
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۲۱
ہوگا کہ لامحدود طور پر وسیع کائنات میں اس کی حیثیت ایک انتہائی عاجز مخلوق کی ہے۔ اسی طرح فکری اعتبار سے بھی وہ بے حد کمزور ہے ۔ یعنی ہر لمحہ وہ شیطان کے حملوں کے نشانہ پر رہتا ہے۔ ایسی حالت میں وہی انسان شیطان کے فتنوں سے بچ سکتا ہے جس کا شعور پوری طرح زندہ ہو اور اسی کے ساتھ وہ مسلسل خدا سے اس کی مدد مانگتا رہے۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص مومن نہیں بن سکتا جب تک وہ چار چیزوں پر ایمان نہ لائے۔ وہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں اس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ اور وہ ایمان لائے موت پر اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر اور وہ ایمان لائے تقدیر پر (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2145؛ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 81)۔
ایمان یہ ہے کہ آدمی دل سے یہ یقین کرے کہ زندگی کے سوالات کا صحیح جواب صرف وہ ہے جو خدا کے نزدیک ان کا صحیح جواب ہے۔ اور یہ جواب انسان کو خدا کے پیغمبر کے واسطہ سے ملتا ہے، نہ کہ براہ راست۔ قرآن اس سلسلے میں گائیڈ بک کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن میں خدا کی مطلوب زندگی کے بنیادی اصول بتا دیے گئے ہیں، اور حدیث میں اس کی تفصیل موجود ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں دو قسم کے لوگ وہ ہیں جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ـــ مرجیہ اور قدریہ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2149)۔
مرجیہ سے مراد جبریہ ہیں، یعنی وہ لوگ ہیں جو بندے کو مجبور محض مانیں، یعنی جو کام بھی انسان کرتا ہے وہ اللہ کی قدرت کے تحت کرتا ہے، اس میں بندے کا کوئی اختیار شامل نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلے میں قدریہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو یہ مانیں کہ انسان اپنے ہر فعل کا خالق خود ہے، وہ ہر فعل خود اپنی قدرت سے کرتا ہے، اس میں اللہ کی قدرت کا کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ دونوں نظریات انتہا پسندی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues