سفرِ معرفت
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۲۲
مبنی ہیں۔ پہلا نظریہ جبر میں انتہا پسندی کی پیداوار ہے اور دوسرا نظریہ اختیار میں انتہا پسندی کا۔ جب کہ اصل حقیقت ان دونوں کے درمیان ہے۔ اسی انتہا پسندی کا نام غلو ہے، اور غلو آدمی کو خدا کے دین سے ہٹا کر خود ساختہ دین پر کھڑا کر دیتا ہے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: میری امت میں بھی خسف (زمین میں دھنسنا) اور مسخ (صورت کا بگڑ جانا) ہوگا۔ اور یہ ان لوگوں پر ہوگا جو تقدیر کو جھٹلائیں (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4613 ؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2152)۔ تقدیر کو جھٹلانا اتنا بڑا جرم اس لیے ہے کہ ایسا آدمی گویا خدا کی قدرت اور اس کے علم کا انکار کرتا ہے۔ وہ خدا کو مانتے ہوئے خدا کو اس کا حقیقی درجہ نہیں دیتا۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قدریہ اس امت کے مجوس ہیں۔ پس اگر وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت کو مت جاؤ، اور اگر مریں تو ان کے جنازہ میں شرکت نہ کرو (مسند احمد، حدیث نمبر 5584 ؛ سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4691)۔
قدریہ وہ لوگ ہیں جو یہ عقیدہ رکھیں کہ بندہ اپنا ہر عمل خود اپنی قدرت سے کرتا ہے، خدا کی قدرت کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ ایسے لوگوں کی مشابہت مجوسیوں (Zoroastrians) سے یہ ہے کہ مجوس خدا کے وجود کو دو ذات میں تقسیم کرتے ہیں۔ اسی طرح مذکورہ عقیدہ رکھنے والے لوگ گویا خدا کو اس کی قدرت سے الگ کر رہے ہیں۔ گویا کہ وہ دو قادر مان رہے ہیں، ایک خدا اور دوسرے انسان۔ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اہل قدر کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا نہ رکھو اور نہ ان کے ساتھ کلام کرو (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4710)۔ اہل قدر سے مراد وہ لوگ ہیں جو تقدیر الہی کے منکر ہیں، اور تقدیر کے ان مسائل میں بہت زیادہ غور و فکر کرتے ہیں، جو علم قلیل (الاسراء، 17:85) کی حد سے باہر ہیں۔ ایسے لوگوں سے ملنے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues