سفرِ معرفت
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۲۳
جلنے اور بات کرنے میں یہ اندیشہ ہے کہ آدمی ذہنی انتشار (confusion) میں مبتلا ہو جائے اس لیے اس سے منع فرمایا۔ تاہم جو لوگ علمی صلاحیت رکھتے هوں وہ اصلاحی مقصد کے تحت ایسے لوگوں سے ملیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھ آدمی ایسے ہیں جن پر میں لعنت کرتا ہوں اور اللہ نے بھی ان پر لعنت کی ہے، اور ہر نبی کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اللہ کی کتاب میں (اپنی طرف سے) اضافہ کرنے والا، اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا، طاقت کے زور پر غلبہ حاصل کرنے والا تا کہ وہ اس شخص کو عزت دے جس کو اللہ نے (اس کی سرکشی کی وجہ سے) ذلیل کیا ہے اور وہ اس شخص کو ذلیل کرے جس کو اللہ نے عزت دی۔ اور اللہ کے حرام کو حلال کرنے والا، اور میری آل کے متعلق وہ باتیں حلال سمجھنے والا جنھیں اللہ نے حرام کیا۔ اور میری سنت سے منہ موڑنے والا (المدخل الى علم السنن للبیہقی، حدیث نمبر 146؛ السنة لابن ابی عاصم، حدیث نمبر 337)۔ اس حدیث میں جن کاموں کا ذکر ہے وہ سب سرکشی کی نوعیت کے جرم ہیں اور سرکشی بلاشبہ خدا اور رسول کے نزدیک سب سے زیادہ سنگین جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ عام قسم کا جرم کسی نہ کسی بشری کمزوری کے زیر اثر ہوتا ہے۔ مگر سرکشی انانیت کے جذبہ کے تحت کیا جانے والا ایک فعل ہے، اور انانیت یا تکبر بلاشبہ خدا کی اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو خدا نے ٹسٹ (امتحان) کے لیے بنایا ہے۔ اسی ٹسٹ کی مصلحت کی بنا پر خدا نے انسان کو پوری آزادی عطا فرمائی ہے۔ کیوں کہ آزادی کے بغیر ٹسٹ ممکن نہیں۔ یہ ٹسٹ کس بات کا ہے۔ یہ ٹسٹ اس بات کا ہے کہ انسان حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کرے، وہ آزادی کے باوجود اپنے آپ کو بے آزاد کرلے۔ وہ آزادی کے باوجود اپنے آپ کو خدا کے کنٹرول میں دے دے۔ وہ اختیار رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو بے اختیار کرلے۔ یعنی آزادی کے باوجود اپنے اختیار سے خدا کے آگے جھک جانا۔ خدا کا اصل مطلوب دین یہی آزادانہ سرینڈر ہے۔ جو شخص اس طرح آزاد ہوتے ہوئے خدا کے آگے سرینڈر کرے وہ موت کے بعد کی ابدی زندگی میں جنت کا انعام پائے گا اور جو شخص ایسا نہ کرے وہ موت کے بعد کی زندگی میں جہنم میں داخل ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues