Al-Risala · January 2024 · page 24

انتہا پسندی

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۲۴

انتہا پسندی

انتہا پسندی (extremism) ایک فطری صفت ہے۔ یہ صفت کسی شخص کے اندر کم ہوتی ہے اور کسی شخص کے اندر زیادہ۔ اس صفت کا تعمیری استعمال دنیا میں بھلائی پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس جب اس صفت کا غلط استعمال ہونے لگے تو دنیا برائی سے بھر جاتی ہے۔ یعنی انتہا پسندانہ مزاج کا ایک تعمیری پہلو ہے اور دوسرا اس کا تخریبی پہلو۔ اس کا تعمیری پہلو یہ ہے کہ آدمی اصول کے معاملہ میں سخت حساس ہو، وہ دوسروں کے حقوق کے معاملہ میں کمی کو گوارا نہ کرے، وہ حق سے انحراف کو دیکھے تو تڑپ اٹھے۔ وہ اپنی غلطی کو شدید طور پر محسوس کرتا ہو۔ وہ اپنی کوتاہی کے معاملہ میں اس سے زیادہ شدید ہو جاتا ہے کہ کوئی شخص دوسروں کی کوتاہی کے معاملہ میں شدید ہوتا ہے۔ یہ انتہا پسندی صحت مند انتہا پسندی ہے۔ اس قسم کی انتہا پسندی کا مثبت نام حساسیت ہے۔ انتہا پسندی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ منفی رخ اختیار کرے۔ وہ اپنے اس جذبہ کی بنا پر دوسروں سے نفرت کرے۔ وہ دوسروں سے لڑنے کے لیے تیار ہو جائے۔ وہ اصلاح کے نام پر جنگ اور قتل شروع کر دے۔ یہ انتہا پسندی کی قابلِ اعتراض صورت ہے۔ جب انتہا پسندی اس قسم کی منفی صورت اختیار کرلے تو وہ عملاً ایک برائی (evil) بن جاتی ہے، نہ کہ کوئی خیر (good)۔ اس قسم کی انتہا پسندی کے لیے قرآن اور حدیث میں غلو کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

حساسیت (sensitivity) انسان کی خاص صفت ہے۔ حساسیت، خدا کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اگر حساسیت نہ ہو تو آدمی حیوان کے مانند ہو جائے گا۔ برائی کو برائی سمجھنے کا مزاج اس کے اندر سے ختم ہو جائے گا۔

انتہا پسندی کا مزاج ہمیشہ محاسبہ کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ مگر یہ محاسبہ اپنے خلاف ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس، اپنی کوتاہیوں سے غافل رہنا اور دوسروں کی کوتاہی پر ان سے لڑائی شروع کر دینا سخت گناہ ہے۔ پہلا کردار اگر ثواب کا مستحق بناتا ہے تو دوسرا کردار آدمی کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ اس کی سخت پکڑ کی جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues

Printed page