Al-Risala · July 2024 · page 24

نیا زمانہ، نئی پلاننگ

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۲۴

نیا زمانہ، نئی پلاننگ

اسلام میں عقیدہ مطلق (absolute) ہے، لیکن منہاج (method) ہمیشہ قابل تبدیلی (changeable ہوتا ہے۔ مثلاً توحید کا تعلق عقیدہ سے ہے ۔ اس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، لیکن سواری کا تعلق منہاج سے ہے۔ قدیم زمانہ میں حج کا سفر اونٹ کے ذریعہ ہوتا تھا، اب زمانہ کی تبدیلی کی بنا پر حاجی لوگ ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہیں، وغیرہ۔ موجودہ زمانہ، خاص طور پر بیسویں صدی میں اسلامی احیاء یا اسلامی انقلاب کے لیے بہت زیادہ تحریکیں اٹھائی گئیں لیکن سب کی سب اپنے نشانہ کے اعتبار سے ناکام ثابت ہوئیں ۔ اس کا مشترک سبب یہ تھا کہ دنیا میں ہر اعتبار سے ایک نیا دور (new age) آچکا تھا۔ مگر مسلم رہنما نئی تبدیلیوں سے مکمل طور پر بے خبر رہے۔ ان رہنماؤں کا مشترک کیس ایک رہنما کے اپنے الفاظ کے مطابق یہ تھا: دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو اصل یہ ہے کہ فرد یا سماج کی ترقی کا راز زمانی تبدیلی کو سمجھنے اور اس کے مطابق پلاننگ کرنے میں چھپا ہوا ہے۔ موجودہ زمانے میں جدید سائنس کے ظہور کے بعد پوری صورت حال بالکل بدل گئی۔ اس دور میں سب سے پہلے کرنے کا کام یہ تھا کہ نئے زمانے کو دریافت کرکے اس کے مطابق بذریعہ اجتہاد اسلام کی تطبیق نو (reapplication) تلاش کی جائے۔ مگر مسلم رہنما ایسا نہ کرسکے۔ یہ رہنما ایسے منہاج کے مطابق اپنی تحریکیں چلاتے رہے، جو زمانی تبدیلی کی بنا پر اب ناقابل عمل (obsolete) ہو چکے تھے۔ اس بنا پر ان کے منصوبے بھی عملاً ناقابل تطبیق (inapplicable) ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان تحریکوں نے ملی خدمات کے نام پر کچھ پر شور ہنگامے تو ضرور جاری کیے، لیکن وہ ملت کے لیے کوئی نتیجہ خیز تعمیری عمل انجام نہ دے سکے۔

مثال کے طور پر بیسویں صدی کے نصف اول کی خلافت تحریک کو لیجیے، جو مسلم رہنماؤں نے نہایت زور وشور کے ساتھ چلائی، لیکن وہ مکمل طور پر بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ترکی کی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues

Printed page