اجتہاد کیا ہے
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۲۵
اجتہاد کیا ہے
اجتہاد زندگی کی ایک ضرورت ہے۔ اس کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد کے لفظ کو شرعی اجتہاد کے معنی میں لینا، اس کو محدود بنانا ہے۔ اجتہاد عملی اعتبار سے اس سے زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے، جو فقہاء کے یہاں مروج ہے۔ اجتہاد علمی اعتبار سے تخلیقی طرز فکر (creative thinking) کا دوسرا نام ہے۔
اجتہاد کے لفظ کو محدود شرعی معنی میں لینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اجتہاد ایک مقدس چیز بن گیا، اور لوگوں کے لیے جائز نہ رہا کہ وہ آزادانہ طور پر اجتہادی طرز فکر کو اختیار کریں۔ حالاں کہ علمی اعتبار سے یہ درست نہ تھا۔ اجتہاد کی یہ شرط بھی نہیں ہے کہ کسی کے پاس افتاء کی ڈگری موجود ہو۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے: اسْتَفْتِ قَلْبَكَ، وَاسْتَفْتِ نَفْسَكَ (مسند احمد، حدیث نمبر 18006)۔ یعنی اپنے دل سے فتویٰ پوچھو، اپنے ضمیر سے فتویٰ پوچھو۔ یہاں دل اور ضمیر کا من سنس کے معنی میں ہے، کسی پراسرار معنی میں نہیں۔ یہ اجتہادی طرز فکر کی بات ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد دراصل تطبیق نو (reapplication) کا نام ہے۔ اجتہاد چھوٹے معاملے میں بھی ہوتا ہے، اور بڑے معاملے میں بھی۔ اجتہاد انفرادی معاملے میں بھی ہوتا ہے، اور قومی معاملے میں بھی۔ اجتہاد مذہبی معاملے میں بھی ہوتا ہے، اور سیکولر معاملے میں بھی۔ اجتہاد کی شرط صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ آدمی کی نیت درست ہو، یعنی وہ دین خداوندی پر عمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اجتہاد کے لفظی معنی ہیں بہت زیادہ کوشش کرنا۔ عملًا اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شرعی حکم جو بظاہر اپنی ابتدائی صورت میں قابل عمل نہ رہے، اس کو دوبارہ قابل عمل بنانے کی کوشش کرنا۔ چنانچہ اجتہاد کی ایک تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے: بَذْلُ الْوُسْعِ لِنَيْلِ حُكْمٍ شَرْعِيٍّ بِطَرِيقِ الاِسْتِنْبَاطِ (ادب المفتي والمستفتى لابن الصلاح، صفحہ 25)۔ یعنی کسی مسئلہ کے حل کے لیے شرعی حکم کو بذریعہ استنباط (inference) معلوم کرنے کی علمی اور فکری کوشش کرنا۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں شرعی حکم کی تطبیق نو (reapplication) تلاش کرنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues