آئیڈیا لوجی نہ کہ تلوار
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۳۳
آئیڈیا لوجی نہ کہ تلوار
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں دعوت کا کام شروع کیا تو قریش کے لوگوں نے مختلف طریقوں سے آپ کو روکنے کی کوشش کی۔ ان میں ایک واقعہ وہ ہے جو سیرت کی کتابوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ عبداللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ ایک بار قریش کے سردار ابو طالب کے یہاں جمع ہوئے۔ ابو طالب کے ذریعہ ان لوگوں نے رسول اللہ سے پوچھا کہ آخر آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں، آپ نے کہا: كَلِمَةٌ وَاحِدَةٌ تُعْطُونِيهَا تَمْلِكُونَ بِهَا الْعَرَبَ، وَتَدِينُ لَكُمُ بِهَا الْعَجَمُ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 417)۔ یعنی، میں صرف ایک کلمہ کا مطالبہ کرتا ہوں۔ اگر تم اسے مان لو تو تم سارے عرب کے مالک بن جاؤ گے اور عجم تمہارے مطیع ہو جائیں گے۔
بعض لوگوں نے رسول اللہ کے اس قول کا مطلب اسلامی حکومت کا قیام نکالا ہے۔ حالانکہ اس حدیث کا سیاست اور حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس حدیث میں کلمہ کی بات کہی گئی ہے، نہ کہ حکومت کی۔ یہاں کلمہ کا مطلب وہی ہے جس کو آج کل کی زبان میں آئیڈیا لوجی (ideology) کہا جاتا ہے۔ انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ فوجی طاقت کے مقابلے میں، نظریے کی طاقت زیادہ بڑی ہوتی ہے۔ اسلام کی تاریخ اس حقیقت کی ایک ممتاز مثال ہے۔ اسلام کو مستحکم کامیابی ہمیشہ آئیڈیا لوجی کی بنیاد پر حاصل ہوئی ہے، نہ کہ تلوار یا فوجی طاقت کی بنیاد پر۔
مثال کے طور پر مدینہ کو اسلام کی تاریخ میں مرکزی مقام حاصل ہے۔ مدینہ کے اسلام کا دعوتی مرکز بننے کی وجہ اسلام کی آئیڈیا لوجی ہے۔ مدینہ کے انصار جب رسول اللہ سے ملے اور آپ کی دعوت کو سنا تو ان کو آپ کی بات پسند آگئی۔ چنانچہ وہ لوگ آپ کے سچے ساتھی بن گئے۔ اس طرح مکہ کے بجائے مدینہ اسلامی مشن کا مرکز قرار پایا، اور ساری دنیا میں اسلام کا پیغام مدینہ کے ذریعہ پہنچا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ جب آپ مدینہ آگئے تو مکہ کے لوگوں نے آپ کے خلاف جنگ کا ایک سلسلہ قائم کر دیا۔ مثلاً، بدر، احد اور خندق وغیرہ۔ رسول اللہ نے اس جنگی سلسلے کو روکنے کے لیے حدیبیہ کے مقام پر مشرکین قریش سے یک طرفہ طور پر جھک کر دس سالہ نا جنگ معاہدہ کیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues