Al-Risala · July 2024 · page 34

آئیڈیا لوجی نہ کہ تلوار

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۳۴

اسلامی تاریخ میں اس معاہدہ کو صلح حدیبیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس صلح کے دو سال بعد بغیر کسی جنگ کے مکہ پر فتح حاصل ہوئی۔ اس فتح کی جڑ میں اسلام کی آئیڈیالوجی تھی۔ ابن شہاب زہری تابعی کے مطابق، صلح حدیبیہ سے پہلے آپس کی لڑائی کی وجہ سے مسلم اور غیر مسلم ایک دوسرے سے مل نہیں سکتے تھے۔ اب جب امن قائم ہوا، منافرت اور کشیدگی دور ہوئی تو آپس میں تبادلۂ خیال ہونے لگا۔ اس طرح لوگوں کو اسلام کو سمجھنے کا موقع ملا۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ صلح حدیبیہ کے بعد دو سالوں میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کیا کہ بعثت سے لے کر اس وقت تک اتنے مسلمان نہیں ہوئے تھے (اِلْتَقَوْا فَتَفَاوَضُوا فِي الْحَدِيثِ وَالْمُنَازَعَةِ، فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدٌ بِالْإِسْلَامِ يَعْقِلُ شَيْئًا إِلَّا دَخَلَ فِيهِ، وَلَقَدْ دَخَلَ فِي تِيْنَكَ السَّنَتَيْنِ مِثْلُ مَنْ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ قَبْلَ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرُ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 322۔

اس قسم کا ایک عظیم واقعہ تیرہویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ تاتاری قبائل کے حملے نے عباسی سلطنت کو مغلوب کر لیا تھا۔ یہ غلبہ اتنا شدید تھا کہ مسلمانوں کی فوجی طاقت اس کے مقابلے میں غیر موثر ثابت ہوئی۔ مورخ ابن اثیر نے اس زمانے کے مسلمانوں کے عمومی سوچ کی ترجمانی ان الفاظ میں کی ہے: اگر کوئی یہ بیان کرے کہ تاتاریوں نے شکست کھائی اور قید کر لیے گئے تو اس کی بات پر یقین نہ کرنا، اور اگر کوئی تم سے یہ بیان کرے کہ تاتاریوں نے دوسروں کو قتل کر دیا ہے تو یقین کر لینا: (مَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ التَّتْرَ انْهَزَمُوا وَأُسِرُوا فَلَا تُصَدِّقُوهُ وَإِذَا حَدَّثْتُمْ أَنَّهُمْ قَتَلُوا فَصَدِّقُوهُ) (الكامل في التاريخ، جلد 10، صفحہ 353)۔ ایسے نازک موقع پر اسلام کی نظریاتی طاقت ابھری۔ اور صرف نصف صدی کے اندر یہ واقعہ پیش آیا کہ تاتاری قبائل کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔ اسلام کے دشمن، اسلام کے دوست بن گئے۔ اسلام کی اس نظریاتی طاقت کو فلپ ہٹی (Philip K. Hitti) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:۔ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کرلی، جہاں اُن کے ہتھیار نا کام ہو چکے تھے: The religion of Muslims has conquered, where their arms had failed. (History of the Arabs, 1970, p. 488)

حقیقت یہ ہے کہ آئیڈیالوجی انسان کے دلوں کو مسخر کرتی ہے، اور جب انسان کا دل مسخر ہو جائے تو کوئی اور چیز تسخیر کے لیے باقی نہیں رہتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues

Printed page